چین اور پاکستان کے درمیان ٹرانسپورٹ روابط سے عوامی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
چین کے شہر تیانجن کی بندرگاہ پر بجلی پیدا کرنے والے گھومتے ہوئے ہوا کے ٹربائنز اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودکار ٹرانسپورٹ روبوٹس جیسے ماڈلز نے نمائش کے اسٹالز کو سجا رکھا تھا۔
اسی نمائش میں قازقستان میں آستانہ لائٹ ریل ٹرین منصوبے کا ماڈل بھی پیش کیا گیا، جس کے لیے تیانجن ریل ٹرانزٹ گروپ نے مشاورتی خدمات فراہم کی تھیں۔ یہ سب مناظر پاکستانی وزارتِ مواصلات کے محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کے ڈائریکٹر شہباز لطیف مرزا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔
چین کے متعدد دورے کرنے والے شہباز مرزا نے کہا کہ میں چین میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کی ترقی سے واقعی متاثر ہوا ہوں جو آج کے دور میں ہماری بھی ضرورت ہے۔
یکم سے 2 جولائی تک چین کے شمالی شہر تیانجن میں عالمی پائیدار ٹرانسپورٹ فورم کے سینئر حکام کاکا اجلاس اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے وزرائے ٹرانسپورٹ کا 12 واں اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں 20 ممالک اور خطوں کے نمائندے شریک ہوئے تاکہ عالمی پائیدار ٹرانسپورٹ تعاون کے مواقع پر بات چیت کی جاسکے۔
شرکاء نے پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ، عالمی سطح پر رابطے اور تعاون مسلسل مضبوط بنانے اور دنیا بھر کے لوگوں کو ترقی کے زیادہ فوائد پہنچانے کے لئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
حالیہ برسوں کے دوران ایس سی او ممالک نے نقل و حمل، بنیادی ڈھانچے اور عوامی رابطوں کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے جس سے پائیدار ٹرانسپورٹ کی ترقی اور علاقائی معیشت کو فروغ ملا ہے۔
مرزا نے کہا کہ چین پاکستان کے لئے بالخصوص ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک بہترین ترقیاتی شراکت دار ہے۔
مرزا نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سڑکوں، ریل، توانائی اور معاشی ترقی کے منصوبوں پر مشتمل بڑا اور تاریخی منصوبہ ہے جو درحقیقت پورے خطے کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف چین اور پاکستان کو جوڑتا ہے بلکہ چین کو وسطی ایشیائی خطے سے بھی منسلک کرتا ہے۔ یہ منصوبہ پورے خطے کی معیشت کو فروغ دے گا، عوام کی معاشی فلاح کو بہتر کرے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
آمد و رفت کے نظام میں بڑھتی ہوئی سہولت کے باعث چین اور پاکستان کے درمیان عوامی روابط بھی مزید گہرے ہوگئے ہیں۔
مرزا نے کہا کہ پاکستان میں کئی خوبصورت سیاحتی مقامات ہیں۔ ہمیں ان علاقوں تک رسائی کی غرض سے رابطوں کے فروغ کے لئے چین کے ساتھ زبردست تعاون حاصل ہے۔ چین سے حاصل ہونے والے سڑکوں پر مبنی تعاون سے اب زیادہ بین الاقوامی سیاح ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔
مرزا نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان فضائی سفر بھی معمول کا حصہ بن چکا ہے اور پاکستان کے کئی شہروں سے روزانہ کی بنیاد پر بیجنگ، شنگھائی اور ارمچی جیسے چینی شہروں کے لئے پروازیں روانہ ہوتی ہیں۔
مرزا نے مشاہدہ کیا کہ ان دنوں چین میں بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ، اساتذہ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ دراصل ایک ثقافتی تبادلہ ہے”۔
مرزا نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں چین کے ماحول دوست متبادل ذرائع اور ٹیکنالوجیز پر مبنی جدید حل کو انتہائی متاثر کن قرار دیا۔
مرزا نے کہا کہ چین بالخصوص ترقی یافتہ پبلک ٹرانسپورٹ نظاموں کے ذریعے ماحول دوست ٹیکنالوجیز میں بہت آگے ہے۔ بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے یہ نیٹ ورک شہروں کے اندر اور شہروں کے درمیان موثر اور پائیدار آمدورفت کی سہولیات فراہم کرتے ہیں اور ذاتی گاڑیوں پر انحصار کو کم کرتے ہیں۔
مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سردیوں میں سموگ اور گرمیوں میں شدید درجہ حرارت جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہمیں چین سے سیکھنا چاہیے اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ میں چین کے ماحول دوست ٹرانسپورٹ منصوبوں کے موثر نفاذ کا اعتراف کرتا ہوں۔ ہم چین کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، بھرپور انداز میں سیکھ رہے ہیں اور شہری اور بین الاضلاعی آمدورفت کے حل تیار کر رہے ہیں۔ ہم پاکستان اور چین کی اس شراکت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔
مرزا کے مطابق پاکستان اعلیٰ ٹیکنالوجیز میں چین کی جدید ترقی کو تسلیم کرتے ہوئے ہائی ٹیک، جدید اور ڈیجیٹل ٹرانسپورٹ حل کی ترقی کے لئے سرگرمی سے کام کر رہا ہے اور چین کے تجربے سے خاطر خواہ استفادہ کرنا چاہتا ہے۔
مرزا کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہماری بنیادی شہری سہولیات ابھی چین کے مقابلے میں بنیادی نوعیت کی ہیں لیکن ہمیں خاص طور پر ذہین ٹرانسپورٹ اور جدید ریل نظاموں میں بہتری کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ ہم ماحول دوست بحری نقل وحمل اور جہازوں کی ٹیکنالوجیز کے تبادلے اور ان سے سیکھنے کے بھی خواہاں ہیں۔
اشتہار
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پائیدار ٹرانسپورٹ مرزا نے کہا کہ چین چین اور پاکستان اور پاکستان کے ٹرانسپورٹ کے ماحول دوست کے درمیان رہے ہیں میں چین کے لئے چین کے
پڑھیں:
جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
فرانسیسی حکام کے مطابق امریکی مالیاتی شخصیت اور جنسی جرائم کے مقدمات میں نامزد جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے فرانسیسی ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے پیرس کے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے ہیں۔
69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیر کی شب ان کے اپارٹمنٹ سے ملی، جبکہ حکام نے موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کا خفیہ سوسائیڈ نوٹ منظر عام پر، موت کا وقت ’خود چننے‘ پر اظہار اطمینان
سیاد کی وکیل مینیا عرب-ٹیگرین نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ذہنی دباؤ، عوامی بدنامی، طویل انتظار اور شدید اضطراب نے بھی ان کی صحت پر منفی اثرات ڈالے۔
Modeling scout Daniel Siad who introduced women to Jeffrey Epstein found dead in Paris pic.twitter.com/zMobl4buzz
— HatsOff (@HatsOffff) July 22, 2026
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر دل کا دورہ موت کی وجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ای میل میں سیاد نے مبینہ طور پر ایپسٹین کو لکھا تھا کہ وہ بارسلونا میں موجود ہیں اور ان کے پاس آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون موجود ہے جسے وہ بارسلونا یا پیرس میں ماڈلنگ کے شعبے میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین نے ذاتی معاملات کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، بل گیٹس کا انکشاف
اس پر ایپسٹین نے مختصر جواب دیتے ہوئے صرف ’تصویر؟‘ لکھا تھا۔
اپریل 2009 کی ایک مبینہ ای میل میں سیاد نے براتسلاوا میں ماڈلز کی تلاش کے دوران ایک 17 سالہ سلوواک لڑکی کی تصاویر ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔
پیرس کی پروسیکیوٹر لور بیکو کے مطابق انسانی اسمگلنگ اور فراڈ سے متعلق فروری میں شروع ہونے والی تحقیقات کے بعد اب تک کم از کم 24 خواتین ایسی سامنے آ چکی ہیں جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مبینہ جرائم کے حوالے سے خود کو متاثرہ یا گواہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سفر کیا؟
سیاد کی وکیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ تفتیش کاروں نے ان سے متعلق تحقیقات کیں، لیکن فوری گرفتاری کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تھے۔
’یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ڈینیئل سیاد کے خلاف کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالتی کارروائی میں باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا۔‘
واضح رہے کہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین 2019 میں وفاقی تحویل کے دوران مردہ پائے گئے تھے، جبکہ ان کی موت کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس معاملے پر مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں آج بھی جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا انسانی اسمگلنگ بارسلونا پوسٹ مارٹم جنسی جرائم جیفری ایپسٹین خودکشی ڈینیئل سیاد ماڈلنگ اسکاؤٹ