data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ(این این آئی)کمیونٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کا اپنے مطالبات کے حل کیلئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ منگل کو بھی جاری رہا۔ احتجاجی کیمپ میںمختلف سیاسی جماعتوں اور ملازمین تنظیموں کے رہنمائوں نے احتجاج پر بیٹھے کمیونٹی اساتذہ سے اظہار یکجہتی کیا اورانہیں تعاون کا یقین دلایا۔ کمیونٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر امین خان میانی نے احتجاجی کیمپ سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 24جولائی کو مجھے اور میرے دوسرے اساتذہ کرام کرام کو جائز حقوق کیلئے گرینڈ الائنس کے جلوس سے گرفتار کرکے 9دن تک ہدہ جیل کوئٹہ اور مچھ جیل میں قید رکھا گیا۔ بعد ازاں مذاکرات کے نتیجے میں ہمیں 2جولائی کو رہا کیا گیا ہمارے جائز مطالبے سے گرینڈ الائنس کے صوبائی صدرعبدالقدوس کاکڑ، جنرل سیکرٹری حاجی اصغر خان بنگلزئی ،جی ٹی اے آئینی کے صدر خادم حسین بگٹی اوردیگر گرینڈ الائنس کے عہدیداران بخوبی آگاہ ہیں ہماراپہلامطالبہ ہے کہ حکومت نے 2025-26ء کے بجٹ میں مزدور کی کم سے کم جو تنخواہ مقرر کی ہے کمیونٹی ٹیچرز کو وہ تنخواہ ادا کی جائے ،تھرڈ پارٹی سکول کمیٹی سے معاہدہ ختم کرکے براہ راست بی بی ایف ٹیچرز کے ساتھ معاہدہ کرے ہم حکومت بلوچستان اور گرینڈ الائنس کے عہدیداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری قربانیوں کو ضائع نہ کریں ہمارے جائز حقوق ہمیں دیے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گرینڈ الائنس کے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف