ٹک ٹاک نے تین ماہ میں پاکستانیوں کی کتنی ویڈیوز ڈیلیٹ کیں؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
کراچی:
ٹک ٹاک نے سال 2025ء کی پہلی سہ ماہی کے لیے اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کردی۔
یہ رپورٹ جنوری 2025ء سے مارچ 2025ء تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے جس کے مطابق ٹک ٹاک نے اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر تین کے دوران پاکستان میں کل 24,954,128 ویڈیوزحذف کیں۔
پاکستان میں پیشگی طور پر ویڈیوز کو حذف کرنے کی شرح انتہائی بلند رہی جو 99.
عالمی سطح پر ٹک ٹاک نے اس سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 211 ملین ویڈیوز حذف کیں جو پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیے گئے کل مواد کا تقریباً 0.9 فیصد ہیں۔
حذف کی گئی ویڈیوز میں سے 184,378,987 ویڈیوز خودکار نظام کے ذریعے شناخت کرکے حذف کی گئیں تاہم 7,525,184 ویڈیوز کو مزید جانچ کے بعد بحال کر دیا گیا۔
پیشگی حذف کرنے کی شرح 99.0 فیصد رہی اور 94.3 فیصد نشان زدہ کانٹنٹ کو پوسٹ کیے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی حذف کردیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حذف کی گئی کل ویڈیوز کا ایک بڑا حصہ — 30.1 فیصد— حساس یا بالغ موضوعات پر مشتمل تھا جو کانٹنٹ کے حوالے سے ٹک ٹاک کی پالیسیوں کے مطابق نہیں تھا۔
مزید برآں 11.5 فیصد ویڈیوز نے پلیٹ فارم کے تحفظ اور شائستگی کے معیارات کی خلاف ورزی کی جبکہ 15.6 فیصد نے پرائیویسی اور سیکیورٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کی۔
اس کے علاوہ حذف کی گئی ویڈیوز میں سے 45.5 فیصد کو غلط معلومات کے طور پر نشان زد کیا گیا اور 13.8 فیصد ویڈیوز کو ترمیم شدہ میڈیا اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کانٹنٹ کے طور پر شناخت کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاک نے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔