مودی راج میں بھارت لسانی و مذہبی نفرت کی لپیٹ میں
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
مودی کا بھارت لسانی تفرقات میں بٹ گیا، انتہا پسند مودی نے بھارت کو لسانی، مذہبی اور طبقاتی خانہ جنگی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔
مودی کے بھارت میں گاؤ رکشکوں کی غنڈہ گردی کے بعد اب لسانی دہشتگردی عام ہو چکی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ’’ممبئی کے مہاراشٹر نوینرمن سینا (ایم این ایس) کے غنڈوں نے مراٹھی نہ بولنے پر فوڈ اسٹال والے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔‘‘
علاقے کے تاجروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
راج ٹھاکرے کی ایم این ایس نفرت اور تشدد کے ذریعے مراٹھی اجارہ داری اور ہندوتوا نظریے کا پرچار کرتی ہے۔ لسانی تعصب اور مذہبی جنونیت راج ٹھاکرے کی سیاست کا بنیادی محور رہا ہے، جسے اب کھلے عام اپنایا جا رہا ہے۔
مودی راج نے ایسا سازگار ماحول فراہم کیا جہاں ایم این ایس جیسی شدت پسند پارٹی زبان کی بنیاد پر کھلے عام ظلم و زیادتی کر سکے۔
آج کا بھارت لسانی غنڈہ گردی، مذہبی جنونیت اور ذات پات کے زہر میں ڈوب چکا ہے۔ بھارت میں ہندوتوا کا جنون اب گائے، اذان اور جے شری رام کے نعروں سے آگے بڑھ کر لسانیت پر آچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔