سپیکر ریفرنس کیس کا کیا بنا؟ممبر الیکشن کمیشن کا وکیل عمر ایوب سے استفسار
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)الیکشن کمیشن میں عمر ایوب کی انتخابات میں کامیابی سے متعلق کیس میں ممبر الیکشن کمیشن اکرام اللہ نے کہاکہ سپیکر ریفرنس کیس کا کیا بنا؟وکیل عمر ایوب نے کہاکہ سپیکر ریفرنس کیس میں پشاور ہائیکورٹ نے حکم امتناعی دیا ہے،ممبر الیکشن اکرام اللہ نے کہاکہ ہائیکورٹ کس طرح حکم امتناعی دے سکتی ہے؟
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پی ٹی آئی رہنما اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب کی انتخابات میں کامیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 4رکنی کمیشن نے سماعت کی،ممبر الیکشن کمیشن اکرام اللہ نے کہاکہ سپیکر ریفرنس کیس کا کیا بنا؟وکیل عمر ایوب نے کہاکہ سپیکر ریفرنس کیس میں پشاور ہائیکورٹ نے حکم امتناعی دیا ہے،ممبر الیکشن اکرام اللہ نے کہاکہ ہائیکورٹ کس طرح حکم امتناعی دے سکتی ہے؟جسٹس(ر)اکرام اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آئین میں کوئی ترمیم ہوئی ہے؟ممبر کمیشن اکرام اللہ نے کہاکہ کیس کے فیصلے پر یہ سب کچھ لکھیں گے۔
جنگ بندی نہ ہوئی تو اسرائیل کو نتائج بھگتنا ہوں گے، برطانیہ کی سخت وارننگ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن ممبر الیکشن عمر ایوب
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔