حزب الله کا سعودی چینل العربیہ کے الزامات پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں لبنان کی مقاومت اسلامی کا کہنا تھا کہ اس نازک صورتحال میں حزب الله کے صحیح موقف کو جاننے کیلئے ہمارے رسمی ذرائع سے رجوع کریں۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب الله" کے شعبہ تعلقات عامہ نے آج شام سعودی نیوز چینل العربیہ کی اُن خبروں کو مسترد کر دیا جس میں مذکورہ چینل نے خبر دی تھی کہ حزب الله، لبنانی حکومت کے ساتھ تصادم کی تیاری کر رہی ہے۔ لبنان کی مقاومتی اسلامی کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب العربیہ نے دعویٰ کیا کہ حزب الله اپنے ہتھیار حوالے نہیں کرے گی اور لبنانی حکومت کے ساتھ محاذ آراء ہونے کے لئے تیار ہے۔ جس کے جواب میں حزب الله نے کہا کہ العربیہ اور الحدث جیسے نیوز نیٹ ورکس کی جانب سے شائع کی گئی خبریں و معلومات بالکل غلط ہیں۔ یہ میڈیا گروپس لبنان میں انتشار پھیلانے اور استحکام کو کمزور کرنے کے لئے مشکوک مقاصد پر عمل پیرا ہیں۔ حزب الله نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی کہ وہ ان جعلی خبروں کو نظر انداز کریں اور اس نازک صورت حال میں حزب الله کے صحیح موقف کو جاننے کے لئے ہمارے رسمی ذرائع سے رجوع کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حزب الله
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔