اسرائیل صحافیوں کو غزہ تک رسائی دینے سے کیوں انکاری ہے؟ سینئر اسرائیلی صحافی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
نیٹّا اہیتوف ممتاز اسرائیلی اخبار ’ دی ہارتز‘ سے وابستہ ہیں۔ وہ اس اخبار کے میگزین سیکشن کی سینیئر ایڈیٹر ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اخبار میں ایک تجزیہ لکھا۔ جس میں ممتاز فرانسیسی مورخ اور ماہر امور مشرق وسطیٰ جان پیئر فلیو (جنہوں نے کئی ماہ غزہ میں گزارے ہیں)کے حوالے سے غزہ میں تباہی کی تصویر دنیا کو دکھانے کی کوشش کی۔ وہ لکھتی ہیں:
غزہ میں تباہی کی تصویرغزہ کی پٹی میں داخل ہونے کے بعد، جب جان پیئر فلیو، ممتاز فرانسیسی مورخ اور ماہر امور مشرق وسطیٰ، نے پہلی بار وہاں کے حالات کا جائزہ لیا تو انہیں ایک بہت بڑا دھچکا لگا۔ وہ وہ جگہیں، جو انہیں اپنی کئی سابقہ سفروں میں مانوس لگتی تھیں، اب بالکل بدل چکی تھیں۔ ان کے لیے یہ منظر بے حد حیران کن تھا۔ سڑکیں، گلیاں، عمارتیں، پورے شہر – سب کچھ ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیے غزہ جنگ: اسرائیلی فوجی بدترین نفسیاتی مسائل سے دوچار، 43 فوجیوں کی خودکشی
یہ تباہی اتنی وسیع اور غیر معمولی تھی کہ جان پیئر فلیو کے لیے سب کچھ اجنبی اور غیر واضح محسوس ہوا۔ وہ ان علاقوں کو پہچاننے سے بالکل قاصر تھے جہاں وہ پہلے کبھی آتے جاتے تھے۔ اس تباہی کا منظر انسان کے اندر کی گہرائیوں کو چھو جاتا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ علاقے آباد، متحرک اور زندگی سے بھرپور تھے، لیکن اب وہاں ملبہ ہی ملبہ تھا۔
ایک مکمل تباہی کا منظرفلیو کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک جنگ یا فوجی حملے کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل انسانی المیہ ہے جس نے علاقے کی بنیادی جڑوں کو چھین لیا۔ وہ جغرافیائی، ثقافتی اور سماجی منظرنامے جو ایک بار غزہ کی پہچان تھے، اب وہاں کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔ یہاں تک کہ جان پیئر فلیو جیسے ماہر بھی اس منظر کو دیکھ کر مکمل طور پر چونک گئے تھے۔
اسرائیل کی صحافیوں پر پابندیاںاس تباہی کے منظر کو دیکھنے کے بعد جان پیئر فلیو نے کہا کہ اب انہیں اس بات کا پورا احساس ہو رہا ہے کہ اسرائیل نے صحافیوں کو غزہ میں جانے سے کیوں روک رکھا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے صحافیوں کی غزہ تک رسائی محدود کرنے کے پیچھے ایک بڑی حکمت عملی چھپی ہوئی ہے: وہ نہیں چاہتے کہ دنیا اس تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اگر دنیا غزہ میں ہونے والی انسانی تباہی کو دیکھے گی تو یہ عالمی رائے عامہ میں ایک بہت بڑا اثر ڈالے گی اور اسرائیل پر مزید دباؤ پڑے گا۔
ایک خطے کی شناخت کا خاتمہغزہ کی تباہی صرف اس کی عمارتوں اور انفراسٹرکچر کا خاتمہ نہیں بلکہ اس خطے کی ثقافتی اور سماجی شناخت کا بھی خاتمہ ہے۔ وہ علاقے جہاں کبھی لوگ مل کر رہتے تھے، تجارتی سرگرمیاں ہوتی تھیں، اب وہ سب ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ تباہی محض جغرافیائی سطح پر نہیں، بلکہ ایک پورے معاشرے کی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔
بین الاقوامی برادری کا کرداراسرائیل کی جانب سے میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کا مطلب یہ ہے کہ غزہ کی عوام کی کہانی زیادہ تر دنیا تک نہیں پہنچ پاتی۔ عالمی میڈیا کی نظر سے یہ تباہی غائب رہ جاتی ہے، اور صرف وہی خبریں سامنے آتی ہیں جو اسرائیل کے موقف سے ہم آہنگ ہوں۔ اس طرح عالمی سطح پر اس انسانی بحران کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انسانی نقصان اور عالمی ردعملفلیو کی رپورٹ اور اس جیسے دوسرے صحافیوں کی کوششیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک سیاسی یا فوجی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک انسانی بحران ہے جس کا اثر لاکھوں افراد کی زندگیوں پر پڑ رہا ہے۔ غزہ کے شہریوں کی دردناک صورتحال اور ان کی زندگیوں کی تباہی عالمی برادری کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل غزہ میں کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہوسکتا، ایلون مسک
تاہم، عالمی سطح پر اس بحران کی حقیقت کو سامنے لانا اور صحافت کی آزادی کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ اگر صحافی غزہ کے اندر رپورٹ نہیں کر سکتے، تو یہ ان لاکھوں افراد کے لیے انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے، جو عالمی توجہ اور مدد کے مستحق ہیں۔
یہ پورا منظر نہ صرف غزہ کی تباہی کی تصویر پیش کرتا ہے، بلکہ اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ کیوں اسرائیل نے صحافیوں کو اس خطے میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔ عالمی برادری کو اس انسانی بحران کی سنگینی کو سمجھنا اور اس کے حل کے لیے اقدامات اٹھانا انتہائی ضروری ہے، تاکہ غزہ کے عوام کے حقوق کا دفاع کیا جا سکے اور ان کی آواز دنیا تک پہنچ سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل جان پیئر فلیو غزہ نیٹّا اہیتوف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل کہ غزہ کے لیے غزہ کی اس بات
پڑھیں:
ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
ایشین گیمز 2026 کی مردوں کی کرکٹ کے ڈرا کا اعلان کردیا گیا، جس کے تحت پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے (کوارٹر فائنل) میں جگہ مل گئی ہے۔
20 ستمبر سے جاپان کے شہر ناگویا میں شروع ہونے والے 10 ٹیموں پر مشتمل مردوں کے کرکٹ مقابلوں میں ابتدائی مرحلے میں افغانستان، ہانگ کانگ، جاپان، ملائیشیا، نیپال اور عمان ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے، جہاں سے 4 ٹیمیں کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ’دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گئے‘: نور زمان ورلڈ گیمز اسکواش فائنل سے دستبردار، سلور میڈل حاصل
قرعہ اندازی کے مطابق گروپ اے میں افغانستان، جاپان اور نیپال شامل ہیں، جبکہ گروپ بی میں ہانگ کانگ، ملائیشیا اور عمان کو رکھا گیا ہے۔ دونوں گروپوں کی سرفہرست 2، 2 ٹیمیں کوارٹر فائنل میں پہنچ کر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کا سامنا کریں گی۔
دوسری جانب خواتین کے کرکٹ مقابلے 17 سے 22 ستمبر تک کھیلے جائیں گے، جن میں تمام 8 ٹیمیں براہِ راست کوارٹر فائنل سے اپنی مہم کا آغاز کریں گی۔
قرعہ اندازی کے مطابق دفاعی چیمپیئن بھارت کا مقابلہ میزبان جاپان سے ہوگا، بنگلہ دیش چین کے خلاف میدان میں اترے گا، سری لنکا ملائیشیا سے ٹکرائے گا، جبکہ پاکستان کی خواتین ٹیم کا پہلا میچ تھائی لینڈ کے خلاف ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ارشد ندیم تاریخ میں رقم، ماضی میں کب کب پاکستان کا جھنڈا سب سے اونچا رہا؟
ایشین گیمز میں مردوں اور خواتین کے تمام کرکٹ میچز ٹی20 فارمیٹ میں کھیلے جائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایشین گیمز، جو 2023 میں چین کے شہر ہانگژو میں منعقد ہوئی تھیں، میں بھارت نے مردوں اور خواتین دونوں کیٹیگریز میں سونے کے تمغے اپنے نام کیے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایشیئن گیمز بھارت پاکستان کوارٹر فائنل