وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اسلام آباد میں سیف سٹی، کیپٹل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 جولائی2025ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیف سٹی، کیپٹل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا اور سیف سٹی منصوبہ کے تحت پولیس سٹیشن آن وہیلز منصوبے کا افتتاح کر دیا۔ منگل کو سیف سٹی، کیپٹل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے دورہ کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اﷲ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔
آئی جی پولیس اسلام آباد علی ناصر رضوی نے اس موقع پر وزیراعظم کو منصوبہ کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس سٹیشن آن وہیلز کا مقصد 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے علاوہ عوام کو ایف آئی آر اور دیگر سہولیات فراہم کرنا ہے۔(جاری ہے)
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیف سٹی سرویلنس سسٹم کے تحت اسلام آباد میں کل 3257 کیمرے نصب ہیں، ان کیمروں کے ذریعے اسلام آباد میں مختلف تقریبات، محرم الحرام اور سیلاب جیسے خصوصی واقعات کی سکیورٹی کے لئے نگرانی کی جاتی ہے، مؤثر نگرانی کے لئے اے آئی اور فیشل ریکگنیشن جیسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے۔
وزیراعظم نے دورے میں پولیس آپریشن سینٹر، آن لائن ویمن پولیس سٹیشن، ٹیکسی ویری فیکیشن سسٹم اور ہنچ لیب کے مراکز کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعظم نے ہائی پروفائل مقدمات پر کام کرنے والے سیف سٹی کے باصلاحیت نوجوانوں میں ان کی خدمات کے پیش نظر لیپ ٹاپ تقسیم کئے۔ وزیراعظم نے سیف سٹی میں کام کرنے والے اہلکاروں سے گفتگو کی اور ان کی پذیرائی کی۔ دورے میں وزیراعظم کو سیف سٹی کی جانب سے پولیس سٹیشن آن وہیلز کا پہلا ڈرائیونگ لائسنس اعزازی طور پر پیش کیا گیا۔ وزیراعظم کو پولیس سٹیشن آن وہیلز کے تحت درج کی گئی پہلی ایف آئی آر دکھائی گئی۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسلام آباد سیف سٹی
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔