وزیراعظم نے سیف سٹی کے منصوبے پولیس سٹیشن آن وہیلز کا افتتاح کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف کا اسلام آباد میں سیف سٹی، کیپیٹل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا، دورے میں وزیراعظم نے سیف سٹی کے منصوبے "پولیس سٹیشن آن وہیلز" کا افتتاح کیا۔
وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ پولیس سٹیشن آن وہیلز کا مقصد 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے علاوہ عوام کو ایف ائی آر اور دیگر سہولیات فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر شہباز شریف کو سیف سٹی کی جانب سے پولیس سٹیشن آن وہیلز کا پہلا ڈرائیونگ لائسنس اعزازی طور پر پیش کیا گیا اور انہیں پولیس سٹیشن آن وہیلز کے تحت درج کی گئی پہلی ایف آئی آر دکھائی گئی۔
بھارت کا 62 سال بعد مگ 21 جنگی طیارے گراؤنڈ کرنےکا اعلان
وزیراعظم نے دورے میں پولیس آپریشن سینٹر، آن لائن ویمن پولیس سٹیشن، ٹیکسی ویری فیکیشن سسٹم اور لیب کے مراکز کا دورہ کیا، انہیں بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سیف سٹی سرویلینس سسٹم کے تحت اسلام آباد میں کل 3257 کیمرے نصب ہیں، ان کیمروں کے ذریعے اسلام آباد میں مختلف تقریبات، محرم الحرام اور سیلاب جیسے خصوصی واقعات کی سکیورٹی کے لیے نگرانی کی جاتی ہے۔
آئی جی اسلام آباد کا بریفنگ میں یہ بھی کہنا تھا کہ مؤثر نگرانی کے لیے اے آئی اور فیشل ریکگنیشن (Facial Recognition) جیسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، وزیراعظم کو تمام سہولیات کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے افتتاحی تقریب سے خطاب
شہباز شریف نے دورے میں خصوصی مقدمات پر کام کرنے والے سیف سٹی کے باصلاحیت نوجوانوں میں ان کی خدمات کے پیش نظر لیپ ٹاپ تقسیم کیے اور سیف سٹی میں کام کرنے والے اہلکاروں سے گفتگو کرکے ان کی پذیرائی کی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسلام آباد سیف سٹی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔