پولیس کا اصل امتحان میدانِ عمل میں ہوگا، عام آدمی کو انصاف فراہم کرنا ہے:وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا کہ پولیس افسروں اور اہلکاروں کا اصل امتحان میدانِ عمل میں ہوگا جہاں انہیں عام آدمی کو انصاف فراہم کرنا ہے۔وزیراعظم نے نیشنل پولیس اکیڈمی سے خطاب کرتے ہوئے پولیس اصلاحات، تربیت اور سہولیات کی فراہمی سے متعلق اہم اعلانات کیے، فائرنگ رینج اور ہاسٹل کی تعمیرکے منصوبوں کا سنگ بنیادرکھا، ماسٹرز ڈگری کے اجرا کا بھی اعلان کیا، بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران کو لیپ ٹاپ دیے گئے۔وزیراعظم نے پولیس فورس کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تربیت کے بعد میدان عمل میں آپ نے عام آدمی کو انصاف دینا ہے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے، آپ نے شہروں اور دیہات میں امن قائم کرنا ہے، اہداف کا حصول تبھی ممکن ہے جب بہترین تربیت اور سہولتوں کویقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں دوبارہ دہشتگردی نے سر اٹھایا ہے، دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کیلئے ہماری بہادرافواج سرگرم ہیں، رینجرز، ایف سی، پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے روز دہشتگردوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ان کا پولیس افسران سے یہ بھی کہنا تھا کہ عوام کے جان ومال کی حفاظت اورانصاف مہیا کرنا آپ کی ترجیح ہونی چاہئے، آج نیشنل پولیس اکیڈمی میں آکر بہت خوشی ہوئی۔محمد شہباز شریف نے بتایا کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب ایلیٹ فورس کا قیام عمل میں لایا جس کا مقصد ایلیٹ کا تحفظ نہیں بلکہ معاشرتی برائیوں کوختم کرنا ہے، انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لائے اور لاہور میں فرانزک لیب قائم کی، پنجاب پولیس میں 100 فیصد میرٹ پر بھرتیاں کیں جس کے بعد سب اداروں نے مل کردہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دریائے جہلم میں ایک پولیس جوان نے شہریوں کی جان بچاتے ہوئے شہادت پائی، وطن کی آبیاری اور فرض کی ادائیگی کے لیے پولیس کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں۔قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایک سال پہلے اکیڈمی کی حالت بہت خستہ تھی، اکیڈمی میں کوئی سٹاف ممبرنہیں تھا اور یہ ڈمپنگ سٹیشن بن چکی تھی، وزیراعظم سے اکیڈمی کی تزئین و آرائش سے متعلق بات کی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کی طرز پر پولیس اکیڈمی اور تربیت کا معیار بہتر بنائیں گے، اس اکیڈمی میں دوسرے ممالک کے لوگ تربیت کے لیے آتے تھے، اکیڈمی میں اقوام متحدہ اپنا پروگرام شروع کرے گی، سائبرکرائم، کریمنالوجی جیسے جدید کورسز متعارف کرائے جائیں گے، تربیت دینے والے افسران کو مناسب تنخواہیں دی جائیں گے۔نیشنل پولیس اکیڈمی میں 52ویں کامن بیچ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ہوئی، جس میں 43 افسران نے تربیت مکمل کی، جن میں 9 خواتین افسران بھی شامل ہیں، تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری بھی شریک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔