موٹروے پر بس حادثے کا شکار، 5 مسافر جاں بحق، 30 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
چکری انٹرچینج کے قریب موٹر وے ایم-2 پر ایک افسوسناک حادثے میں مسافر بس پھسل کر گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہو گئے۔
موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق، نجی کمپنی کی یہ بس راولپنڈی سے ملتان جا رہی تھی کہ سڑک پھسلن زدہ ہونے کے باعث ڈرائیور بس پر قابو نہ رکھ سکا اور یہ المناک حادثہ پیش آیا۔
ایک اور واقعے میں اسلام آباد کے قریب سنگجانی کے مقام پر ایک کوسٹر بھی موٹروے پر کھائی میں جا گری، جس سے 17 افراد زخمی ہوئے۔
حادثات کی اطلاع ملتے ہی موٹروے پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بتایا گیا ہے کہ 7 افراد کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ دیگر کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بس پولیس جاں بحق حادثہ سنگجانی کھائی کوسٹر موٹر وے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس کھائی کوسٹر موٹر وے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔