آصف زرداری ایوان صدر چھوڑیں گے تو وزیراعظم ہاس میں بیٹھیں گے، ناصر حسین شاہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیرتوانائی سندھ نے کہا کہ حکومت کی دو تہائی اکثریت ہوگئی تو پہلے شوشہ چھوڑا گیا حکومت کی مدت دس سال کی جا رہی ہے، وہ بات ذہنوں میں نہ بیٹھی تو کہا گیا صدر زرداری کو تبدیل کیا جا رہا ہے، یہ بھی ناممکن ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر توانائی ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ صدر زرداری ایوان صدر چھوڑیں گے تو وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھیں گے۔ وزیر توانائی سندھ ناصر حسین شاہ نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری کہیں نہیں جارہے، اگر وہ ایوان صدر چھوڑیں گے تو وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھیں گے اور وزیراعظم پیپلز پارٹی کا ہوگا۔ وزیر توانائی سندھ نے کہا کہ حکومت کی دو تہائی اکثریت ہوگئی تو پہلے شوشہ چھوڑا گیا حکومت کی مدت دس سال کی جا رہی ہے، وہ بات ذہنوں میں نہ بیٹھی تو کہا گیا صدر زرداری کو تبدیل کیا جا رہا ہے، یہ بھی ناممکن ہے۔ واضح رہے کہ کچھ دنوں سے آصف زرداری کو ایوان صدر سے نکالے جانیکی افواہیں زیر گردش ہیں تاہم حکومت اور اتحادیوں کی جانب سے مشترکہ طور پر ان افواہوں کی تردید کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔