گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ ،مون سون کی تباہی، لیکن ذمہ دار کون؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 July, 2025 سب نیوز

تحریر عنبرین علی

گلگت بلتستان، قدرتی حسن سے مالامال، لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے ایک اور شناخت لے کر ابھر رہا ہے: ماحولیاتی تباہی کا شکار خطہ۔ مون سون کے حالیہ اسپیل میں گلگت میں شدید بارشوں کے نتیجے میں کئی علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں، پل بہہ گئے، سڑکیں ٹوٹ گئیں، اور درجنوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔ گلگت سے قبل آنے والا خوبصورت بابو سر ٹاپ اسوقت اموات کا گڑھ بن رہا ہے گزشتہ تین روز سے راستہ بند جبکہ بیشتر سیاح وہاں ہیوی فلڈ نگ کی نظر ہو چکے ہیں ،انکئ تلاش اب بھی جاری ہے ، چلاس میں بھی مون سون بارشوں نے تباہی مچا کر رکھ دی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس تباہی پر حکومتی ردِ عمل کہاں ہے؟ اور ذمہ دار ادارے خاموش کیوں ہیں؟کیا سارا کا سارا ملبہ مون سون بارشوں پر ڈالنا درست ہے یا پھر گلگت حکومت بھی اس کی ذمہ دار ہے ؟؟

یہ کہنا کافی نہیں کہ “قدرتی آفت” تھی۔ یہ سچ ہے کہ بارشیں شدید تھیں، لیکن کیا اس شدت کی پیش گوئی پہلے سے موجود نہیں تھی؟ محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کیا، مقامی صحافیوں نے وی لاگز میں بار بار خطرے کی نشاندہی کی، مگر نہ نالوں کی صفائی ہوئی، نہ حفاظتی بند بنائے گئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت نے آنکھیں بند کر رکھی ہوں۔اور ہر بار سیاحوں کو لینڈ سلائیڈنگ کی نظر کر دیا ہو یہ سچ ہے کہ ہم قدرتی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتے ؟مگر کیا ہم بالکل آنکھیں بند کر دیں یا احتیاطی تدابیر اپنائیں ؟بیرونی ممالک میں بھی مون سون کے خطرات آئے مگر بروقت کچھ انتظامات کیے گئے اور زیادہ نقصان سے خود کو بچایا گیا ۔

اب آتے ہیں گلگت میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بری طرح متاثر ہونے کی طرف،کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اچانک گلگت میں موسمیاتی تبدیلیاں آگئیں ؟آجکل اچانک بادلوں کا پھٹ جانا ،لینڈ سلائیڈنگ اور گلاف ،اور آخر میں تمام شمالی علاقہ خطرے کی زد میں ہےاسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ پندرہ سے بیس سالوں میں گلگت میں جنگلات کا قتل عام تیزی سے ہوا ہےآج قدرت نے انتقام لینا ہی تھا ۔

جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے بعد بھی کچھ جنگلی چیڑ اور دھاڑ کے درخت رہ گئے تقریبا دس لاکھ درخت کاٹنے کے لیے وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے منظور دی،وزیراعلی خود جنگلات کٹوانے کی منظوری دیتے ہیں اور ٹمبر مافیا کے ساتھ مل کر جنگلات کی لکڑی کو باہر ایکسپورٹ کرواتے ہیں اور سیاست چمکاتے ہیں ۔اسوقت دیامر ڈسٹرکٹ میں بھی وزیر اعلی گلگت بلتستان نے درختوں کی کٹائی کی منظوری دے رکھی ہے ۔جبکہ جی بی عوام بھی اس سے باخبر ہے

وزیر اعلی کے اس ناجائز اقدام کے بعد اسوقت پورا گلگت بری طرح سیلاب کی زد میں ہے لیکن تا حال انھوں نے درختوں کی کٹائی کا فیصلہ واپس نہیں کیا ۔ایسے میں مون سون بارشیں اپنا اثر نہ دکھائیں گی تو کیا کریں گی۔

سیلاب سے قبل گلگت کے مقامی لوگ چیختے رہے کہ سیلاب آئے گا مقامی افراد نے سوشل میڈیا پر آواز اٹھائ مگر حکمران ٹمبر مافیا کے ساتھ مل کر اپنا کام جاری رکھتے رہے،اور اب پچھلے کوئی روز سے گلگت سیلابی ریلوں کی لپیٹ میں ہے مگر اب بھی حکمران خاموش ہیں ۔سوال یہ ہے کہ اب گلگت کون بچائے گا؟۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور بنگلا دیش کا سفارتی و سرکاری پاسپورٹ پر ویزا فری انٹری دینے کا فیصلہ عقیدہ اور قانون میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس حیثیت غیرت کے نام پر ظلم — بلوچستان کے المیے پر خاموشی جرم ہے آبادی پر کنٹرول عالمی تجربات اور پاکستان کے لیے سبق حلف، کورم اور آئینی انکار: سینیٹ انتخابات سے قبل خیبرپختونخوا اسمبلی کا بحران اور اس کا حل موسم اور انسانی مزاج کا تعلق چینی مافیا: ریاست کے اندر ریاست TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: لینڈ سلائیڈنگ گلگت بلتستان

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات