پاکستان میں مون سون بارشیں شدت اختیار کر چکی ہیں، اور اس کے نتیجے میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہو گئے ہیں۔ کراچی سے لے کر خیبر اور گلگت بلتستان تک، ہر طرف بارشوں کا راج ہے۔ ندی نالے بپھر چکے ہیں، دریاؤں میں طغیانی ہے، اور شہری زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم آپ کو بارشوں کی تازہ ترین صورتحال، متاثرہ علاقوں، جانی و مالی نقصان، حکومتی امدادی کارروائیوں اور عوام کے لیے اہم احتیاطی تدابیر کے بارے میں تفصیل سے بتائیں گے۔

شدید بارشیں اور تباہی کا منظرنامہ
کراچی سے لاہور تک بارشوں کی شدت
کراچی میں ہلکی اور تیز بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

لاہور میں موسلا دھار بارش نے نشیبی علاقوں کو زیر آب کر دیا، ایئرپورٹ روڈ پر 107 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

چیچہ وطنی، ساہیوال، سیالکوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی بارش اور گرج چمک جاری ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایمرجنسی
نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند۔

ایک ریٹائرڈ کرنل اور ان کی بیٹی نالے میں بہہ گئے، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں ہائی الرٹ ہیں۔

NDMA  234 ہلاکتیں، پنجاب سب سے زیادہ متاثر
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی رپورٹ کے مطابق:

کل ہلاکتیں: 234

پنجاب: 135

خیبرپختونخوا: 56

سندھ: 24

بلوچستان: 16

آزاد کشمیر: 2

اسلام آباد: 1

113 بچے بھی ان حادثات کا شکار ہوئے۔

596 افراد زخمی، 826 مکانات کو نقصان، 203 مویشی ہلاک ہوئے۔

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں حالیہ تباہی
سوات میں نالوں میں بہہ جانے اور چھت گرنے کے واقعات، 4 بچے سمیت 6 افراد جاں بحق۔

باجوڑ، بونیر، اپر کوہستان اور استور میں بھی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔

گلگت بلتستان کے دنیور اور تھور نالوں میں طغیانی سے پل تباہ اور واپڈا کالونی زیر آب۔

سیاحوں کی ریسکیو کارروائی
دیامر اور استور میں پھنسے 250 سیاحوں کو پاک فوج اور ریسکیو اداروں نے بحفاظت نکالا۔

اسکردو-دیوسائی روڈ پر بھی کئی سیاح محصور تھے، جنہیں بحفاظت منتقل کیا گیا۔

سیلابی صورتحال: دریاؤں میں طغیانی اور گلاف الرٹ
دریائے ستلج، راوی، چناب اور سندھ میں طغیانی کی صورتحال۔

مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، جھنگ کے درجنوں دیہات متاثر۔

محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے (GLOF) اور لینڈ سلائیڈنگ کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔

وزیراعظم کی ہدایات اور امدادی کام
وزیراعظم شہباز شریف نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں تیزی کی ہدایت دی۔

نالہ لئی میں بہہ جانے والے باپ اور بیٹی کی تلاش میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

ریسکیو اور ریلیف کی تفصیلات
NDMA کے مطابق:

62 ریسکیو آپریشنز

450 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا

27 ریلیف کیمپس اور میڈیکل سینٹرز قائم

خیمے، کمبل، کھانے کے پیک اور طبی امداد فراہم

عوام کے لیے احتیاطی تدابیر
اگر آپ متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں تو درج ذیل احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں:

نشیبی علاقوں اور دریاؤں کے کنارے سے دور رہیں

غیر ضروری سفر سے گریز کریں

بارش کے دوران بجلی کے آلات سے احتیاط برتیں

کسی ہنگامی صورتحال میں 1122 یا قریبی ریسکیو ادارے سے فوری رابطہ کریں

مون سون بارشیں: چیلنجز اور ذمہ داریاں
یہ وقت ہے احتیاط، ہمدردی، اور قومی یکجہتی کا۔ قدرتی آفات سے مکمل بچاؤ ممکن نہیں، لیکن بروقت اطلاع، منصوبہ بندی اور عوامی شعور کے ذریعے جانی و مالی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان میں طغیانی

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل