ملک بھر میں بارشوں سے ہلاکتیں 233 تک جاپہنچیں، شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی، مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 233 ہو گئی ہے، جب کہ 594 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں تیز بارشیں اور فلش فلڈ: 10 افراد جاں بحق، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں؟
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 79 مرد، 42 خواتین اور 112 بچے شامل ہیں۔ شدید بارشوں سے گلگت، آزاد کشمیر اور اسلام آباد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں مسلسل موسلا دھار بارش کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، اور شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
راولپنڈی میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب برساتی نالے میں گاڑی بہہ گئی، جس میں کرنل (ر) اسحاق قاضی اور ان کی بیٹی سوار تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم تاحال ان کا سراغ نہیں مل سکا۔
یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: شدید بارشوں سے سیلاب کا خدشہ، انتظامیہ الرٹ
مری اور گرد و نواح میں بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے کئی واقعات پیش آئے۔ بوستال روڈ اور ایکسپریس وے پر سلائیڈنگ کے نتیجے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے جبکہ گیارہ افراد اور متعدد گاڑیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ جھنڈا گلی گاؤں میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر دو مکانات متاثر ہوئے، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ملک بھر میں 804 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا، گوجرانوالہ اور راولپنڈی میں اربن فلڈنگ کا باقاعدہ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ لاہور، گجرات، سیالکوٹ اور دیگر شہروں میں بھی شہریوں کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر محتاط رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اربن فلڈنگ این ڈی ایم اے بارش پاکستان راولپنڈی طوفانی بارش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اربن فلڈنگ این ڈی ایم اے پاکستان راولپنڈی طوفانی بارش گئی ہے
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔