پی ٹی اے کا نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے آپریشنز فوری بند نہ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2025 )پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن (پی ٹی اے) نے نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے آپریشنز فوری بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ایل ڈی آئی کمپنیوں سے سماعت کے بعد پی ٹی اے نے احکامات جاری کردیے، پی ٹی اے نے 6 کمپنیوں کو ایک ماہ میں بقایا جات ادا کرنے کی ہدایت کردی ہے.
(جاری ہے)
ایل ڈی آئی ٹیلی کام کمپنیوں سے 80 ارب روپے کے واجبات کی وصولی کے معاملہ پر پیش رفت سامنے آئی ہے، پی ٹی اے نے نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے آپریشنز فوری بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ایل ڈی آئی کمپنیوں سے سماعت کے بعد پی ٹی اے نے احکامات جاری کردیے ہیں پی ٹی اے نے 6 کمپنیوں کو ایک ماہ میں بقایا جات ادا کرنے کی ہدایت کردی ہے، پی ٹی اے کی وطین ٹیلی کام کو 6.25 ارب، سرکل نیٹ کو 5.9 ارب روپے، ملٹی نیٹ کو 1.41 ارب، ریڈٹون کو سب سے زیادہ 14.31 ارب روپے ادا کرنے کی ہدایت کی ہے.
اس کے علاوہ ورلڈ کال کو 5.69 ارب اور ٹیلی کارڈ کو 4.07 ارب روپے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے پی ٹی اے نے وزارت آئی ٹی کے خط اور عدالت کے فیصلے کی روشنی میں کمپنیوں کے کیسز کی علیحدہ علیحڈہ سماعت کی تاہم بقایا جات کی ادائیگی اور لائسنسوں کی تجدید سے متعلق بریک تھرو نہیں ہوسکا ہے. کمپنیوں کے ذمے 24 ارب کی بنیادی رقم اور 56 ارب کے لیٹ پیمنٹ سرچارج واجب الاد ہیں، 9 میں سے 5 ایل ڈی آئی کمپنیاں مکمل بنیادی رقم اقساط میں ادا کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ 4 کمپنیاں بنیادی رقم اقساط میں ادا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایل ڈی آئی کمپنیوں کمپنیوں کے پی ٹی اے نے کی ہدایت ارب روپے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔