’ایسی چیزیں قبول نہیں کروں گی‘، سیلاب زدگان کے لیے غیر معیاری سامان ملنے پر حدیقہ کیانی پھٹ پڑیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
نامور پاکستانی گلوکارہ اور سماجی کارکن حدیقہ کیانی حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ وہ نہ صرف متاثرہ علاقوں کا خود دورہ کر رہی ہیں بلکہ بے گھر افراد کو ابتدائی طبی امداد اور ضروری سامان کی فراہمی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔
حدیقہ کیانی اپنی امدادی سرگرمیوں کے بارے میں سوشل میڈیا کے ذریعے مداحوں کو باقاعدگی سے آگاہ رکھتی ہیں۔ حال ہی میں ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ عوام کی جانب سے بھیجے گئے چند کپڑوں کو دکھاتے ہوئے افسوس کا اظہار کرتی نظر آئیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض افراد نے ایسے پرانے اور خراب کپڑے بھیجے جو پہننے کے قابل بھی نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: حدیقہ کیانی کی سیلاب متاثرین کے لیے عوام سے امداد کی اپیل
گلوکارہ نے اس عمل پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’خدارا، ایسی خراب چیزیں مت بھیجیں۔ کیا آپ دوسروں کو انسان نہیں سمجھتے؟ اگر آپ ایسی چیزیں بھیجیں گے تو ہم انہیں قبول نہیں کریں گے‘۔
حدیقہ کیانی کے اس بیان کو سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے سراہا اور انہیں متاثرین کے لیے آواز اٹھانے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دکھی انسانیت کی مدد کے لیے صرف جذبہ ہی نہیں، عزتِ نفس کا خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔
ایک صارف نے کہا کہ استعمال شدہ کپڑے اور جوتے دینے میں حرج نہیں ہے مگر ایسے کپڑے اور جوتے جو اپنی طبعی عمر پوری کر چکے وہ مت دیں ایسے استعمال شدہ کپڑے دیں جو قابل استعمال ہوں انہیں دھو کر استری کر کے درست حالت میں دیں جس میں آپ خود استعمال کرتے ہیں۔ لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔
استعمال شدہ کپڑے جوتے دینے میں ہرج نہی ہے مگر ایسے کپڑے جوتے جو اپنی طبعی عمر پوری کر چکے وہ مت دیں ایسے استعمال شدہ کپڑے دیں جو قابل استعمال ہوں انہیں دھو کر استری کر کے ص حالت میں دیں جس میں آپ خود استعمال کرتے ہیں
لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھیں pic.
— RAShahzaddk (@RShahzaddk) September 16, 2025
ایک ایکس صارف نے کہا کہ اپنے اسٹور کی صفائی کر کے کسی کو کچھ نا بھیجیں اس سے بہتر چیزیں لنڈے میں ملتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیز وہ بھیجیں جس کو کھول کر اگلے کی عزت نفس مجروح نا ہو۔
حدیقہ جو بتانا چاہ رہی ہیں وہ غور سے سنیے گا اور عمل کیجیے
اپنے سٹور کی صفائی کر کے کسی کو کچھ نا بھیجے گا اس سے بہتر چیزیں لنڈے میں ملتی ہیں۔۔۔۔
چیز وہ بھیجے گا جس کو کھول کر اگلے کی عزت نفس مجروح نا ہو۔۔۔#hadiqakiani @Hadiqa_Kiani pic.twitter.com/lrVbN1ZBUO
— عام آدمی (@Mango_peopel) September 16, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حدیقہ کیانی سیلاب زدگان سیلاب زدگان کی مدد
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حدیقہ کیانی سیلاب زدگان سیلاب زدگان کی مدد استعمال شدہ کپڑے حدیقہ کیانی کی عزت نفس کے لیے
پڑھیں:
پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
ویب ڈیسک: پی ٹی اے نے ملک بھر کے موبائل فون صارفین کے لیے ایک اہم اور تنبیہی پیغام جاری کیا ہے جس میں اپنی نام پر رجسٹرڈ سمز کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے خبردار کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اپنی شناخت پر جاری شدہ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قانوناً جرم ہے کیونکہ آپ کے نام پر موجود سم کسی بھی غیر قانونی یا مجرمانہ کارروائی میں استعمال ہو سکتی ہے۔
صارفین کی سہولت اور حفاظت کے لیے پی ٹی اے نے ہدایت کی ہے کہ شہری یہ چیک کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں فعال ہیں،اس معلومات کیلئے صارفین cnic.sims.pk ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں یا اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر کسی ڈیش (-) کے 668 پر ایس ایم ایس کر کے تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اگر شناختی کارڈ پر کوئی نامعلوم یا بلا ضرورت سم نظر آئے تو اسے فوری طور پر بلاک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محفوظ خریداری اور بائیو میٹرک کا احتیاطی استعمال
پی ٹی اے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئی سم کی خریداری کے لیے ہمیشہ صرف مستند فرنچائز یا آفیشل کسٹمر سروس سینٹر کا ہی انتخاب کریں اور اس بات کی مکمل تصدیق کریں کہ آپ کی اجازت یا علم کے بغیر کوئی بھی سم رجسٹر نہ کی جا رہی ہو۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اس سے قبل بھی پی ٹی اے کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ مفت سم کا لالچ دے کر بائیو میٹرک تصدیق کروانے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔
ایسے دھوکے باز آپ کی بائیو میٹرک کا غلط استعمال کر کے آپ کی معلومات پر کوئی اور سم بھی جاری کروا سکتے ہیں، جس کا خمیازہ بعد میں اصل صارف کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔