لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 ستمبر2025ء) وزیر صحت و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ پنجاب خواجہ سلمان رفیق کی زیرصدارت وڈیو لنک کے ذریعے علی پور ضلع مظفر گڑھ سے محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں سیلاب متاثرین تک طبی سہولیات کی فراہمی بارے اجلاس منعقدہوا۔اجلاس میں سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمودخان نے شرکت کی۔

اجلاس میں سپیشل سیکرٹری آپریشنزطارق محمودرحمانی،ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹرمحمد وسیم اور ڈپٹی سیکرٹری سارہ لونی سمیت دیگرافسران نے شرکت کی۔وڈیولنک کے ذریعے سپیشل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن جنوبی پنجاب امان اللہ،وائس چانسلر نشترمیڈیکل یونیورسٹی ملتان پروفیسر مہنازخاکوانی،پرنسپلز،ایم ایس حضرات ودیگرحکام نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس کے دوران ملتان،مظفرگڑھ،علی پور،جلال پور و دیگر سیلاب متاثرہ علاقہ جات میں متاثرین کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں صحت کی ٹیموں کو سیلاب متاثرہ علاقہ جات میں مزید متحرک اور ریلیف سرگرمیوں کو بڑھانے پر زوردیاگیا۔صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا ویژن ہے کہ سیلاب زدگان کو دہلیز پر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں،وزیراعلیٰ ،سینئر وزیر و کابینہ اراکین سیلاب متاثرہ علاقہ جات میں پہلے دن سے ہی خود جا کر ریلیف آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اجلاس میں طبی اداروں کی میڈیکل ٹیموں کو سیلاب متاثرہ علاقہ جات میں فیلڈ میں مزید متحرک ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ میڈیکل کیمپس کے ذریعے اب تک ہزاروں سیلاب زدگان کو طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔موبائل ٹیموں میں فزیشن،سرجن،پیڈریٹیشن،ایم او /ڈبلیوایم او،سٹاف نرس،پیرامیڈیکل سٹاف،گائناکالوجسٹ اور رضاکار شامل ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہاکہ سیلاب زدگان کو میڈیکل کور دینے کیلئے طبی ماہرین خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔صوبائی سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن عظمت محمودخان نے کہاکہ مشکل کے اس وقت میں میڈیکل کمیونٹی سیلاب زدگان کے شانہ بشانہ جنگ لڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سپیشل سیکرٹری صحت جنوبی پنجاب امان اللہ خود فیلڈ میں ریلیف آپریشن کو مانیٹرکریں،محکمہ صحت میڈیکل ٹیموں کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقہ جات میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا روزانہ کی بنیاد پرخود جائزہ لے رہا ہے۔

عظمت محمود خان نے کہاکہ سیلاب متاثرہ علاقہ جات میں میڈیکل کیمپس میں اینٹی سنیک ویکسین، اینٹی ریبیزویکسین اور پانی سے پیداہونے والی بیماریوں سے بچاو کیلئے ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔سیلاب زدہ علاقوں میں موجود میڈیکل کیمپس میں ڈینگی،ملیریا،ہیپاٹائٹس،گیسٹرو انٹائٹس،ہیضہ اور جلد کے امراض سے بچاو کی ادویات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جا رہاہے۔سیلاب زدہ علاقہ جات میں لوگوں کی رہنمائی کیلئے سہولت کاو نٹرز بھی قائم کئے گئے ہیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سیلاب متاثرہ علاقہ جات میں خواجہ سلمان رفیق سیلاب زدگان کو میڈیکل کیمپس طبی سہولیات فراہم کی جا اجلاس میں نے کہاکہ کے ذریعے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت