’ کیا میں ایسی عورت لگتی ہوں؟‘ تنوشری دتہ نے 1 کروڑ 65 لاکھ روپے کی بگ باس آفر فوراً ٹھکرا دی
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
بالی ووڈ اداکارہ تنوشری دتہ نے انکشاف کیا ہے کہ اُنہیں ریئلٹی شو ’بگ باس‘ میں شامل ہونے کے لیے 1 کروڑ 65 لاکھ روپے کی پیشکش ہوئی، تاہم انہوں نے یہ پیشکش فی الفور ٹھکرا دی۔
اداکارہ نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ گزشتہ 11 برس سے بگ باس کی ٹیم انہیں بار بار رابطہ کر رہی ہے، لیکن وہ کبھی بھی اس شو کا حصہ بننے کے لیے راضی نہیں ہوئیں۔ اس بار بھی بڑی رقم کی پیشکش کے باوجود انہوں نے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے ’اپنے ہی گھر میں ہراسانی کا شکار ہوں، تنوشری دتہ کا دعویٰ
تنوشری دتہ نے کہا کہ کیا میں ایسی عورت لگتی ہوں جو محض ایک ریئلٹی شو کے لیے کسی مرد کے ساتھ ایک ہی بستر پر سو جائے؟ میں اتنی سستی نہیں ہوں، میری پرائیویسی میرے لیے قیمتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شو میں مرد و خواتین سب ایک ہی ہال میں سوتے اور لڑتے ہیں، جو اُن کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ ساتھ ہی اداکارہ نے کہا کہ وہ اپنی خوراک اور توانائی کے اعتبار سے زندگی گزارتی ہیں، اس لیے ایسے ماحول میں نہیں رہ سکتیں۔
یہ بھی پڑھیے: بالی ووڈ کے بھائی جان سلمان خان نے مقبول ریئلٹی شو بگ باس کیوں چھوڑا؟
اداکارہ کے مطابق ’اگر وہ مجھے چاند کا ٹکڑا بھی دیں تو بھی میں بگ باس میں شامل نہیں ہوں گی۔ میں جانتی ہوں کہ سکون سے کام کروں تو اس سے زیادہ کما سکتی ہوں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرٹینمنٹ بگ باس تنوشری دتہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرٹینمنٹ تنوشری دتہ تنوشری دتہ کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔