مدینہ ایئرپورٹ کی مرکزی شاہراہ کا نام ولی عہد محمد بن سلمان سے منسوب کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
شاہ سلمان نے منگل کے روز ہدایت دی ہے کہ مدینہ منورہ کے ایئرپورٹ کی مرکزی سڑک کا نام ‘شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز روڈ’ رکھا جائے۔
یہ نئی نامزد شاہراہ عمرہ و حج زائرین اور سیاحوں کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ یہ مسجدِ نبویؐ اور مدینہ ایئرپورٹ کے درمیان آمد و رفت کو مزید آسان بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کامیاب حج سیزن پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا مملکت کو خراج تحسین
یہ 13 کلومیٹر طویل سڑک مسجدِ نبویؐ کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز روڈ سے ملاتی ہے جو آگے جا کر شہزادہ محمد بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور رائل ٹرمینل تک جاتی ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز روڈ مدینہ کی 3 مرکزی شاہراہوں، شاہ فیصل روڈ (پہلا رنگ روڈ)، شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز روڈ (دوسرا رنگ روڈ)، اور شاہ خالد روڈ (تیسرا رنگ روڈ) سے بھی منسلک ہوگی۔
اس سڑک کے ساتھ کئی منصوبے جاری ہیں جن میں گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے ٹریکس کی تعمیر اور وادی قناۃ کی بحالی کا منصوبہ شامل ہے جو مدینہ کی ایک اہم وادی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان منیٰ پہنچ گئے
مدینہ ریجن کے گورنر شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز نے کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں ترقیاتی اقدامات اور اسٹریٹجک منصوبوں کے آغاز میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے اثرات مدینہ سمیت مختلف علاقوں میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب محمد بن سلمان مدینہ ایئرپورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مدینہ ایئرپورٹ بن عبدالعزیز روڈ ولی عہد
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔