وزیراعظم کا سہ ملکی دورہ شروع،سعودی عرب پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے سہ ملکی دورے کا آغاز کر دیا ہے. پہلے مرحلے میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے. دورے کے دوران وزیراعظم سعودی ولی عہد سے ملاقات کریں گے.جس میں پاکستان سعودی عرب تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچے.
بعدازاں ریاض ایئر پورٹ لاؤنج میں وزیراعظم شہبازشریف اور ڈپٹی گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمان بن عبدالعزیز کے درمیان اہم ملاقات ہوئی. جس میں پاک سعودی تعلقات اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سہ ملکی دورے کا آغاز کر دیا ہے، پہلے مرحلے میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب پہنچے ہیں۔وزیراعظم سعودی عرب کے سرکاری دورے پر اسلام آباد سے ریاض کے لیے روانہ ہوئے، ان کے ہمراہ وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر ِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر ماحولیات مصدق ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شامل ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف آج سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے، ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے گی جب کہ معاشی تعاون میں وسعت، سرمایہ کاری کے نئے مواقعوں کی تلاش، توانائی کے منصوبوں اور خطے میں امن و استحکام پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔سعودی عرب کا دورہ مکمل کرکے وزیراعظم برطانیہ جائیں گے جہاں ان کی برطانوی حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں.وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ سے 21 ستمبر کو امریکا کے لیے روانہ ہوں گے۔وزیراعظم شہباز شریف کی 22 ستمبر کو فلسطین سے متعلق 2 ریاستی حل کی سربراہ کانفرنس میں امریکی شہر نیویارک میں شرکت متوقع ہے۔اس کے بعد وزیراعظم نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے، جنرل اسمبلی سے ان کا خطاب 26 ستمبر کو ہوگا جب کہ 27 ستمبر کو امریکا سے وطن واپس روانہ ہوں گے اور 29 ستمبر کو براستہ برطانیہ وطن واپس پہنچیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد ستمبر کو کریں گے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔