شاہ محمود قریشی کی رہائی؟ ابھی کون کون سے کیسز میں ضمانت ہونا باقی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 9 مئی 2023 کے شیرپاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس میں بری کر دیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت شاہ محمود قریشی سمیت 6 ملزمان کو بری کیا گیا ہے، جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:شاہ محمود قریشی شیر پاؤ پل کیس میں بری، مقدمے کے دوران کب کیا ہوتا رہا؟
شاہ محمود قریشی کی رہائی کی اطلاعات ہیں، لیکن دیگر مقدمات کی وجہ سے وہ ابھی تک جیل میں ہیں۔
شاہ محمود قریشی کے خلاف 2022 کے حقیقی آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کے الزامات پر مقدمات درج ہیں۔ ان مقدمات کی سماعت سست روی کا شکار ہے، اور عمران خان کی عدم دستیابی کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔
9 مئی 2023 کے احتجاج کے دوران عمران خان کے ویڈیو پیغام کی روشنی میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی تحریک دی گئی۔
ان مقدمات میں ان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔ 29 جون 2025 کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سرکاری وکیل کو دلائل کے لیے 3 جولائی تک مہلت دی تھی۔ ان مقدمات میں ضمانت ابھی تک منظور نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:مزاحمت اور مذاکرات ساتھ ساتھ، شاہ محمود قریشی نے نیا فارمولا پیش کردیا
9 مئی کے واقعات سے متعلق تھانہ ترنول میں درج ایک مقدمے میں شاہ محمود قریشی کی بریت کی درخواست پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے 11 جولائی 2025 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
اس کیس میں ضمانت یا بریت کا حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا اور یہ کیس ابھی زیر التوا ہے۔
شاہ محمود قریشی پر شادمان پولیس اسٹیشن کو جلانے کے الزام میں مقدمہ درج ہے۔ اس کیس میں ان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی تھی۔
14 مئی 2025 کو انسدادِ دہشتگردی عدالت نے اس کیس سمیت چھ مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں کی سماعت 26 مئی تک ملتوی کی تھی، کیونکہ پراسیکیوشن نے ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مہلت مانگی تھی۔ اس کیس میں ضمانت ابھی تک منظور نہیں ہوئی۔
ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے مقدمات (366/23 اور 367/23) میں شاہ محمود قریشی کے خلاف الزامات ہیں۔ 2 ستمبر 2023 کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے عدم پیروی کی بنیاد پر ان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:9 مئی کیس: شاہ محمود قریشی بری، یاسمین راشد، محمودالرشید، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ کو 10،10 سال قید کی سزا
اس کے بعد اس کیس میں ضمانت کی کوئی نئی پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ مقدمات ابھی بھی زیر التوا ہیں۔
سائفر کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 3 جون 2024 کو انہیں بری کر دیا تھا، لیکن 9 مئی کے دیگر مقدمات، جیسے کہ زمان پارک اور مغلپورہ میں پولیس گاڑیوں کو جلانے کے الزامات، ابھی زیرِ سماعت ہیں۔
ان مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت جاری ہے، اور کچھ کیسز میں عدالت نے سرکاری وکیل کو دلائل کے لیے مہلت دی ہے۔
شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے ایک اہم کیس میں بری کیا گیا ہے، لیکن 9 مئی سے متعلق دیگر مقدمات اور ممکنہ طور پر حقیقی آزادی مارچ کے کیسز کی وجہ سے وہ جیل میں ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق، 9 مئی کے 7 مقدمات میں انہیں قصوروار قرار دیا گیا تھا، اور ان کا چالان عدالت میں جمع ہو چکا ہے، جو ان کی رہائی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی انسداد دہشتگردی پی ٹی آئی دہشتگردی عدالت شاہ محمود قریشی عمر سرفرازچیمہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی پی ٹی ا ئی دہشتگردی عدالت شاہ محمود قریشی عمر سرفرازچیمہ شاہ محمود قریشی مقدمات میں اس کیس میں ان مقدمات ضمانت کی عدالت نے ابھی تک کے لیے مئی کے
پڑھیں:
بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
وفاقی آئینی عدالت نے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتالوں کی کالز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی ہڑتالیں شہریوں کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی نظام کو مفلوج کرنے والی ہڑتالیں نہ صرف سائلین کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ پہلے سے دباؤ کا شکار عدالتی ڈھانچے پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب وکلا تنظیمیں ہڑتال کی کال دیتی ہیں تو وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مقدمات کی سماعت بغیر پیش رفت کے ملتوی ہو جاتی ہے اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عدالت کے مطابق پاکستان کا قانونی نظام پہلے ہی مقدمات کے انبار اور طویل التوا کا شکار ہے، جس کے باعث شہریوں کو فیصلوں کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ چاہے وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، اس سے انصاف تک رسائی میں رکاوٹ پیدا کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اور یہ آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
فیصلے میں ایک وکیل کے لائسنس سے متعلق کیس کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا بار کونسل نے وکیل کے قتل کے مقدمے میں نامزد ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی کرنے پر وکیل کو پریکٹس سے روکا تھا، جس کے نتیجے میں اس کا لائسنس معطل کر دیا گیا۔ متاثرہ وکیل نے اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جہاں عدالت نے وکیل کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے لائسنس بحال کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور کی سونیا سے عائشہ بننے والی خاتون کیس کا فیصلہ، وفاقی آئینی عدالت نے والدین کی حوالگی کی درخواست خارج کردی
وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ وکیل کی قانونی نمائندگی کے حق کو محدود کرنا آئینی اصولوں کے منافی ہے، اور عدلیہ کے ذریعے دی جانے والی یہ بحالی قانون کی بالادستی اور انصاف تک رسائی کے بنیادی حق کو تقویت دیتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں