پنجاب اسمبلی: پولیس چھاپوں کیخلاف اپوزیشن کا احتجاج، اعجاز شفیع 15 اجلاسوں کیلئے معطل
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار+ آئی این پی) قائم مقام سپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ نے اپوزیشن رکن اعجاز شفیع کوغیر پارلیمانی اور نازیبا الفاظ کے استعمال پر 15 اسمبلی اجلاسوں کیلئے معطل کر دیا، ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیاگیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے30 منٹ کی تاخیر سے قائم مقام سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی صدارت میں شروع ہوا، اجلاس کے آغاز میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے کہا کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے، پانچ اگست کو ہماری جماعت نے احتجاج کی کال دی ہوئی ہے۔دو دن سے پولیس ہمارے ورکرز کو ہراساں کر رہی ہے۔ ہمارے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، ایم پی ایز کے گھروں میں چھاپے مار کر سامان کو توڑ پھوڑ رہے ہیں۔ حکومت اس کا نوٹس لے۔وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ میرے علم میں نہیں کہ ان کے گھروں پر کوئی چھاپے مارے جارہ ہیں۔ پولیس اور ہوم ڈیپارٹمنٹ سے پتہ کر لیتا ہوں، بیشک پرامن احتجاج سب کا حق ہے،کہیں تو ہم بھی ان کے پیچھے کھڑے ہو جائیں گے۔ اجلاس میں محکمہ فنانس سے متعلقہ وقفہ سوالات میں صرف ایک سوال عظمیٰ کاردار کی جانب سے شامل تھا جو انکی عدم موجودگی کی وجہ سے موخر کر دیا گیا۔ بعدازاں وزیر پارلیمانی مجتبیٰ شجاع الرحمان نے پرنسپل پالیسی سالانہ رپورٹ برائے 2023ء اور این ایف سی ایوارڈ پر عمل درآمد کی ششماہی رپورٹ مالی سال 2019-20ء پیش کیں، حکومتی رکن امجد علی جاوید نے اعتراض کیا کہ رپورٹس رکھنے کا کہا گیا ہے جبکہ یہاں رپورٹ رکھی نہیں گئی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں حسب معمول اپوزیشن اور حکومت اراکین کی نوک جھوک جاری رہی۔ لوکل گورنمنٹ سے متعلقہ اپوزیشن رکن نادیہ کھر کی تحریک التوائے کار ان کی عدم موجودگی اور جواب نہ آنے کی وجہ سے موخر کر دی، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن سے متعلق قاضی احمد سعید کی تحریک التوائے کار بھی موخرکردی گئی۔ اپوزیشن رکن طیب راشد سندھو نے کہا کہ گذشتہ روز شیخوپورہ میں ایک غریب آدمی کا مافیا نے گردہ نکال لیا، پتہ نہیں یہ واقعات کب سے ہو رہے ہیں، حکومت اس کا نوٹس لے۔ قاضی احمد سعید نے کہا کہ کسان پریشان اور بدحال ہے، با اثر لوگ موگوں کا پانی اپنی طرف کر لیتے ہیں۔ غریب کسان پریشان ہے، چیف ایری گیشن انتہائی نا اہل ہے اس کو کئی دفعہ بتایا لیکن اس نے کوئی توجہ نہیں دی۔ حکومتی رکن امجد علی جاوید نے کہا کہ حکومت پنجاب کا فوکس ہے کہ پاکستان میں کمپیوٹر کی تعلیم کو فروغ ملے۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمشن ایسی ایسی پالیسیاں لا رہی ہے جس سے کمپیوٹر کی تعلیم میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہیں۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمشن اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے، یا شرائط نرم کرے۔ علاوہ ازیںشہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس ایکٹ 1958 ء میں وسل بلوور سے متعلق بڑی ترمیم کر کے بل 2025ء پنجاب اسمبلی سے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔ ترمیمی بل کے تحت پراپرٹی ٹیکس چوری کی اطلاع دینے والے شہریوں کو انعام دیا جائے گا، پراپرٹی ٹیکس چوری کی کھوج لگانے پر ایکسائز افسر کو بھی کارکردگی کی بنیاد پر انعامی رقم ملے گی۔ اطلاع دینے والا شخص وسل بلوور کہلائے گا۔ وسل بلوور کی فراہم کردہ معلومات پر ٹیکس یا جرمانہ وصول ہونے کی صورت میں اسے انعام دیا جائے گا اور انعامی رقم ٹیکس چوری کے مقدمے میں لگنے والے جرمانے سے ادا کی جائے گی۔ ناقابلِ بھروسہ، پبلک ریکارڈ میں موجود یا پہلے سے معلوم اطلاع پر انعام نہیں دیا جائے گا۔ کلیکٹر ٹیکس چوری یا چھپانے کی صورت میں متعلقہ ذمہ دار افسر کا تعین کرے گا۔ حکومت افسران کے انعام کے لیے انفرادی یا اجتماعی کارکردگی کی بنیاد پر طریقہ کار طے کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی ٹیکس چوری نے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.