خیبر پختونخوا کا دشمن سندھ اور پنجاب نہیں حکمران ہیں، حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
پشاور میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ 25 سال سے قبائلی اضلاع کے عوام تباہ ہو رہے ہیں، ان کے مسائل حل کرنے کیلئے حکمران ایک جگہ پر بیٹھ جائیں، تمام مسائل کو حل کرنا پڑے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا دشمن سندھ اور پنجاب نہیں حکمران ہیں۔ عوام سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جس صوبے کے وسائل ہوں تو اسی صوبے اور عوام کا حق پہلے ہوتا ہے، سینٹ انتخابات کے بٹوارے کے دوران تمام سیاسی جماعتیں ایک ہو گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ 25 سال سے قبائلی اضلاع کے عوام تباہ ہو رہے ہیں، ان کے مسائل حل کرنے کیلئے حکمران ایک جگہ پر بیٹھ جائیں، تمام مسائل کو حل کرنا پڑے گا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمرانوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہوگا، ہمیں امن و امان کیلئے افغانستان کی حکومت کیساتھ بات کرنی ہو گی۔
امیر جماعت اسلای نے کہا کہ افغان حکومت کا آمادہ کرنا ہوگا کہ افغانستان کی سر زمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ کی جائے، افغان ہمارے بھائی ہیں، ہمارا ان پر حق ہے اور ان کا ہم پرحق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔