امریکی مطالبے پر آن لائن پلیٹ فارمز پر5 فیصد ٹیکس ختم
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان نے امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل کی راہ میں ایک اور رکاوٹ دور کرتے ہوئے ڈیجٹیل اشیا اور خدمات فراہم کرنے والے آن لائن پلیٹ فارمز پر عائد 5 فیصد ٹیکس ختم کر دیا ،اس سلسلے میں ایف بی آر نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس میں مذکورہ کمپنیوں کو ٹیکس استثنیٰ دیا گیا ہے۔
اس استثنیٰ سے صرف امریکی ٹیک کمپنیز نہیں بلکہ تمام غیرملکی فرمز کو فائدہ ہوگا۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی سے کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب پاکستان کا ایک وفد تجارتی مذاکرات کیلیے امریکا میں موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں امریکا نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے پانچ فیصد ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جو امریکا کی بڑی ٹیک کمپنیز کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ٹیکس استثنیٰ دینے سے پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔ وزرات خزانہ کے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے آئی ایم ایف کے تحفظات دورکرنے کیلیے امریکی حکام براہ راست آئی ایم ایف سے بات کرینگے۔ ٹیکس استثنیٰ سے گوگل، میٹا، ایمازون، مائیکروسافٹ، نیٹ فلیکس اور دیگر کمپنیوں کو فائدہ ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔