وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 اور پاکستان کا پہلا گرین بلڈنگ کوڈ منظور کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں حج پالیسی حج پالیسی 2026ء منظوری دے دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے حج کے لیے سرکاری کوٹہ 70 فیصد اور پرائیویٹ 30 فیصد کر دیا۔2026ء میں سرکاری حج ساڑھے 11 لاکھ سے ساڑھے 12 لاکھ روپے تک ہو گا۔وزارتِ مذہبی امور نے سرکاری کوٹہ 40 فیصد اور پرائیوٹ 60 فیصد کی سمری بھیجی تھی۔وزیراعظم شہباز شریف نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے حج کا سرکاری کوٹہ 70 فیصد اور پرائیویٹ 30 فیصد کیا ہے۔
جنوبی پنجاب کے 15 ہزار سے زائد نوجوانوں کی پی ایم وائی پی-لاہور قلندرز ٹرائلز میں بھرپور شرکت
وفاقی کابینہ نے پاکستان کا پہلا گرین بلڈنگ کوڈ بھی منظور کر لیا۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا کہ وزیرِاعظم کا ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کی بچت کا وژن عملی شکل اختیار کرنے لگا ہے۔ گرین بلڈنگ کوڈ وزیرِاعظم کے پائیدار ترقی کے وژن کا عکاس ہے، چار یا زائد منزلہ نئی عمارتوں پر گرین بلڈنگ کوڈ لاگو ہوگا،بارش کے پانی کے ذخیرے کے لیے نئے تعمیراتی ضوابط نافذ، توانائی کی بچت، شمسی ڈیزائن اور گرین چھتیں اب لازمی، ماحولیاتی تحفظ کے لیے عمارتوں میں قابلِ تجدید توانائی کی شمولیت،اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف کی جانب پاکستان کا مثبت قدم، پاکستان میں ماحول دوست اور پائیدار تعمیرات کی طرف اہم پیش رفت ہے ۔
ایف آئی اے نے 1368 انسانی سمگلروں کو گرفتار کرلیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔