چینی صدر کی سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے اجلاس کی صدارت
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
بیجنگ :سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو نے 30 جولائی کو ایک اجلاس منعقد کیا اور اس سال اکتوبر میں بیجنگ میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 20 ویں مرکزی کمیٹی کا چوتھا کل رکنی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کا بنیادی ایجنڈا یہ ہے کہ سی پی سی سینٹرل کمیٹی کا پولیٹیکل بیورو مرکزی کمیٹی کو اپنے کام پر رپورٹ پیش کرے گا اور قومی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لئے 15واں پانچ سالہ منصوبہ تیار کرنے کی تجاویز کا مطالعہ کرے گا۔ اجلاس میں موجودہ معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور سال کی دوسری ششماہی میں معاشی امور کا تعین کیا گیا۔ سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سکریٹری شی جن پھنگ نے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس نے نشاندہی کی کہ “15ویں پانچ سالہ منصوبہ” کا دور بنیادی طور پر سوشلسٹ جدیدیت کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک اہم دور ہے ۔اس وقت چین کے ترقی کے ماحول کو گہری اور پیچیدہ تبدیلیوں کا سامنا ہے، اسٹریٹجک مواقع ،خطرات اور چیلنجز ایک ساتھ موجود ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ چین کی معاشی بنیاد بھی مستحکم ہے ۔ چین کو شدید بین الاقوامی مسابقت میں اسٹریٹجک پہل کر کے چینی طرز کی جدیدکاری کی مجموعی صورتحال سے متعلق اسٹریٹجک کاموں میں بڑی کامیابیوں کو فروغ دینا چاہئے۔اجلاس میں کہا گیا کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک چین کے اقتصادی آپریشن میں مسلسل پیش رفت ہوئی ہے ، اعلیٰ معیار کی ترقی میں نئے نتائج حاصل ہوئے ہیں اور چین کی معیشت نے مضبوط قوت اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سی پی سی
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔