ورلڈ یونیورسٹی گیمزِ، پاکستانی دستے میں بے ضابطگیوں پر انکوائری کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
انکوائری کمیٹی ٹیم ،انتخاب، نظم و ضبط، لاجسٹک مسائل و کھلاڑیوں کے غائب ہونے کی تحقیقات کرے گی
ڈائریکٹر پی ایس بی لاہور کی سربراہی میں قائم تین رکنی کمیٹی 15 یوم میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی پابند
پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ورلڈ یونیورسٹی گیمز کیلئے جرمنی جانے والے پاکستانی دستے میں بے ضابطگیوں پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔ ڈائریکٹر پی ایس بی لاہور کی سربراہی میں قائم تین رکنی کمیٹی 15 یوم میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہوگی۔ ڈی جی پی ایس بی کی منظوری سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ایف آئی ایس یو ورلڈ گیمز میں پاکستانی دستے کی شرکت میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں جن میں ٹیم آفیشلز کے انتخاب، نظم و ضبط، لاجسٹک مسائل اور دو کھلاڑیوں کے غائب ہونے جیسے سنگین نکات شامل ہیں۔ماسوائے ایک کوچ کے تمام ٹیم آفیشلز ایچ ای سی یا جامعات کے افسران تھے جس سے شفافیت پر سوال اٹھے۔ ایچ ای سی کے مطابق مقابلے کے دوران دو طالبعلم ایتھلیٹس کے لاپتہ یا فرار ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ خواتین کے ریلے ٹیم 4400 مقابلوں کے لئے نااہل قرار دیا گیا۔ ایک جوڈو ایتھلیٹ نے کوچ اور مناسب مقابلہ جاتی یونیفارم کے مقابلوں میں شرکت کی۔ ان حقائق کی روشنی میں پی ایس بی نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ہے۔ کمیٹی کی سربراہ ڈائریکٹر پی ایس بی لاہور نورش صباح جبکہ نصرا للہ رانا اور سیف الراحمان راو ممبران ہونگے۔تحقیقاتی کمیٹی ایچ ای سی کی جانب سے ایتھلیٹس اور ٹیم آفیشلز کے انتخاب کے طریقہ کار، بنیاد اور شفافیت کا جائزہ لے گی، کمیٹی دستے میں شامل ہر آفیشل کی ذمہ داریوں کا تعین کریگی کہ ان کی شمولیت مروجہ اصولوں کے مطابق تھی یا نہیں۔کمیٹی دو ایتھلیٹس کے لاپتہ یا فرار ہونے کے حالات کی چھان بین، واقعات کا وقت وار جائزہ اور غفلت یا نااہلی کے ذمہ داران کی نشاندہی کرے گی۔ کمیٹی خواتین ریلے ٹیم کی نااہلی کے اسباب کی تحقیق، تیاری، انتخاب یا نگرانی میں بھی کوتاہی کی بھی نشاندہی کرے گی۔ٹی او آر کے مطابق کمیٹی یہ تعین بھی کرے گی کہ جوڈو ایتھلیٹ کو مقابلہ کیلئے یونیفارم کیوں فراہم نہیں کیا گیا اور وہ کوچ کے بغیر کیوں شریک ہوئی۔ کمیٹی بدانتظامی، غفلت یا فرائض میں کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی سفارش کریگی۔ کمیٹی نوٹیفکیشن کے اجرا کی تاریخ سے (15) دن کے اندر ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہونگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پی ایس بی کے مطابق کرے گی
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔