پنجاب کی سرکاری و نجی یونیورسٹیوں میں ایم پی ایز کی لازمی شمولیت، نیا قانون، نئی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
پنجاب کی سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کے قوانین میں اہم ترمیم متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت تمام یونیورسٹیوں کی گورننگ باڈیز میں اراکینِ صوبائی اسمبلی (ایم پی ایز) کی نمائندگی لازمی قرار دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ پنجاب اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوٹس لاز (ترمیمی) بل 2025 کے ذریعے کیا گیا، جس پر گورنر پنجاب نے 25 جولائی 2025 کو دستخط کرکے اسے باقاعدہ ایکٹ کی شکل دے دی ہے۔
ترمیمی بل کے مطابق، پنجاب کی ہر سرکاری اور نجی یونیورسٹی کے گورننگ بورڈ یا سینڈیکیٹ میں 3 ایم پی ایز کی شمولیت لازمی ہوگی، جن میں کم از کم ایک خاتون رکن شامل ہونا ضروری ہے۔ ان اراکین کی نامزدگی کا اختیار اسپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد یونیورسٹیوں کی پالیسی سازی اور انتظامی امور میں صوبائی نمائندوں کی براہِ راست شمولیت کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: گوادریونیورسٹی کے وائس چانسلر کا ڈرائیور کوئٹہ سے اغوا، تاوان طلب
اس سے پہلے سینڈیکیٹ میں 17 اراکین ہوتے تھے، جن میں صرف ایک ایم پی اے شامل ہوتا تھا۔ دیگر ممبران میں 4 پروفیسرز، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، اور وائس چانسلر (بطور صدر) شامل ہوتے تھے۔ تاہم اب، اس بل کی منظوری کے بعد ایم پی ایز کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
یہ بل پنجاب اسمبلی میں کثرتِ رائے سے منظور کیا گیا۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے تعلیمی پالیسیوں کو صوبائی ترقیاتی ایجنڈے کے مطابق بنانے میں مدد ملے گی۔ لیکن، ماہرینِ تعلیم اور وائس چانسلرز اسے تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت قرار دے رہے ہیں۔
حکومت کا مؤقفحکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون یونیورسٹیوں کو صوبائی ترقیاتی ایجنڈے سے ہم آہنگ کرے گا۔ ان کے مطابق، ایم پی ایز کی شمولیت سے طلبہ، اساتذہ، اور عوامی نمائندوں کے درمیان رابطہ مضبوط ہوگا، جس کا فائدہ تعلیمی نظام کو پہنچے گا۔
مزید پڑھیں: پانی پاکستان کی ریڈ لائن، کشمیر کو کبھی نہیں بھولیں گے: فیلڈ مارشل کا وائس چانسلرز اور اساتذہ سے خطاب
وائس چانسلرز اور فیکلٹی تنظیموں کا ردِعملپنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے اس قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گورننگ باڈیز میں پیشہ ورانہ مہارت اور تعلیمی تجربے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق، سیاسی نمائندوں کی شمولیت سے انتظامی فیصلوں میں تاخیر اور غیر ضروری دباؤ کا خدشہ ہے، جو تعلیمی و تحقیقی مقاصد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد آفتاب نے اس قانون کی منظوری پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیوں کے گورننگ بورڈز میں سیاسی مداخلت اداروں کی خود مختاری کو متاثر کرے گی۔ انہوں نے ماہرین پر مشتمل کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا، جسے وہ اس عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان سمجھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: شمو قتل: ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پراکٹر کے استعفوں کا مطالبہ
دوسری طرف، فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فپواسا) پنجاب چیپٹر نے جولائی 2025 میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر محمد اسلام (صدر) اور نظامت ڈاکٹر ریاض حسین خان سندھر (سیکریٹری) نے کی، جس میں مختلف جامعات جیسے پنجاب یونیورسٹی، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکا نے اس ایکٹ کو یونیورسٹی کی خودمختاری اور تعلیمی آزادی پر سنگین حملہ قرار دیا اور کہا کہ یہ قانون اصلاح نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ گورننگ باڈیز میں جبری سیاسی شمولیت تعلیمی اداروں کی آزادی کو کمزور کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب سرکاری اور نجی یونیورسٹیاں فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز گورننگ باڈیز گورننگ بورڈ یا سینڈیکیٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرکاری اور نجی یونیورسٹیاں گورننگ باڈیز گورننگ بورڈ یا سینڈیکیٹ نجی یونیورسٹی گورننگ باڈیز یونیورسٹی کے ایم پی ایز کی وائس چانسلر کے مطابق
پڑھیں:
ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن
پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔
I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.
Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…
— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026
ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن
انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔
مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027