کھاریاں، 16جواریے رنگے ہاتھوں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
کھاریاں(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 جولائی2025ء)تھانہ صدر پولیس نے 16جواریے رنگے ہاتھوں گرفتارکرلئے ۔ تفصیلات کے مطابق ڈی ایس پی سرکل ذوالفقار علی بھٹہ کی زیر نگرانی تھانہ پولیس کا جواریوں کیخلاف کریک ڈان جاری ہے۔
(جاری ہے)
تھانہ صدر پولیس کو انٹیلیجنس کی بنیاد پر خفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ نواحی علاقے کلیوال میں بدنام زمانہ جواری ابرار شاہ کے ڈیرہ پر کافی تعداد میں لوگ موجود ہیں اور شرط لگا کر جوا کھیلنے میں مصروف ہیں، جس پر ڈی ایس پی لالہ موسی سرکل ذوالفقار علی بھٹہ کی زیر نگرانی ایس ایچ او تھانہ صدر لالہ موسی انسپکٹر مجاہد عباس اور دیگر پولیس افسران و ملازمان پر مشتمل پولیس کی ٹیمیں تشکیل دے کر بروقت کارروائی کرتے ہوئے بہترین حکمت عملی سے فوری ریڈ کرکی16جواریوں کو رنگے ہاتھوں گرفتارکرلیااور جوا پر لگی ہوئی بھاری رقم 3لاکھ 20ہزار روپے برآمد کرلی۔
گرفتار ملزمان میں نعیم اسلم ،سرفراز،ذیشان شریف،رمضان،ذاکر،عبدالجبار،زین حسن،طارق محمود،امتیاز احمد،محمد یاسر،عبدالستار،محمد فاروق،ابرار حسین،غلام عباس،محمد علی،ناصر محمود شامل ہیں ،جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک