کربلا کا راستہ ماضی میں بھی بند نہیں ہوا، اب بھی نہیں ہوگا، علامہ موسیٰ حسینی
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اپنے بیان میں علامہ موسیٰ حسینی نے کہا کہ زائرین کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کربلا کا راستہ اس سے پہلے بھی بند نہیں ہوا، اب بھی نہیں ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس علمائے مکتب اہلبیت کے رہنماء اور کوئٹہ کے جید عالم دین علامہ محمد موسیٰ حسینی نے اربعین کے سلسلے میں کربلا جانیوالے زائرین کی بائی روڈ سفر پر پابندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی یہ راستہ بند نہیں ہوا، اب بھی نہیں ہوگا۔ حکومت سکیورٹی فراہم کرے۔ انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں زائرین کی زمینی راستوں کے ذریعے ایران اور عراق جانے پر حکومتی پابندی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز پاکستان میں امن و امان، مال اور جان کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اربعین کے سلسلے میں کربلا جانے والے زائرین پر پابندی نے پاکستان میں مقیم کروڑوں عقیدت مندوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم واضح طور پر بتانا چاہتے ہیں کہ ماضی میں بھی یہ راستہ کسی بھی صورت بند نہیں ہوا، اور نہ اب ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بند نہیں ہوا
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔