ٹک ٹاکر رجب بٹ کے انتہائی قریبی دوستوں کی نازیبا ویڈیوز لیک ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔28جولائی 2025) ٹک ٹاکر رجب بٹ کے انتہائی قریبی دوستوں کی نازیبا ویڈیوز لیک ہوگئیں،سوشل میڈیا صارفین خاتون ٹک ٹاکرز کے بعد اب مرد ٹک ٹاکرز کی قابل اعتراض ویڈیوز سامنے آنے پرحیران،نازیبا لیک ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اعتراض کیا ہے کہ ویسے یہ لوگ بڑے مذہبی بنتے ہیں تو پھر مکمل برہنہ ویڈیوز کیوں بنائی گئیں؟۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں رجب بٹ کے قریبی ساتھیوں حیدر شاہ، مان ڈوگر اور شہزی کی مکمل برہنہ ویڈیوز سامنے آئی ہیں جو ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈنگ میں ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ٹوئٹس میں یہ تذکرہ بھی کیا جارہا ہے کہ رجب بٹ کے انتہائی قریبی ساتھی حیدر شاہ ویڈیو کال پر جسے اپنا جسم دکھا رہے ہیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود رجب بٹ ہی ہیں۔(جاری ہے)
سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ ان ٹک ٹاکرز نے آخر یہ ویڈیوز بنائی ہی کیوں؟ یہ قابل اعتراض ویڈیوز بنائی تو ان کے موبائل سے ہی گئی ہیں جسے بعد میں ان کے ہی ساتھیوں یا کسی اور نے وائرل کیا ہے۔دوسری جانب رجب بٹ اور ان کے دوستوں کا موقف ہے کہ ہمارا ڈیٹا ہیک ہوا ہے، کسی نے ہمارے موبائل سے یہ ویڈیوز ہیک کرکے وائرل کی ہیں۔ ٹک ٹاکر رجب بٹ کا ٹک ٹاکر زارا ملک کے ساتھ تعلقات کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ رجب بٹ دبئی میں زارا بٹ کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔رجب بٹ دبئی میں زارا ملک کے ساتھ دیکھے بھی گئے ہیں اور ان کی کچھ ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس سے دونوں کے درمیان انتہائی قربت کا شک گہرا ہوجاتا ہے۔ قوالی نائٹ میں بھی دونوں ساتھ تھے۔ جب کہ دونوں کی ایک جیسی ڈریسنگ بھی زیر بحث ہے۔ رجب بٹ جس رنگ کی شرٹ پہنے ہوتے ہیں زارا بھی اسی کلر کی شرٹ میں نظر آتی ہیں۔سوشل میڈیاصارفین نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ رجب بٹ اپنی حاملہ بیوی ایمان کو دھوکا دے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان چھوڑ دیا ہے اور وی لاگنگ بھی نہیں کرونگا۔ رجب بٹ نے لائیوسیشن کے دوران پاکستان چھوڑنے کی وجوہات بتادیں تھیں۔جب تک ان کی والدہ کی رضامندی شامل نہیں ہوگی وہ کوئی بھی نیا وی لاگز اپلوڈ نہیں کریں گے اور یہی ان کی اولین شرط تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے والے معروف یوٹیوبر رجب بٹ حالیہ تنازع کے بعد ملک چھوڑ چکے تھے اور انہوں نے وی لاگنگ سے وقفہ لینے کا فیصلہ کرلیاتھا۔رجب بٹ نے ٹک ٹاک پر لائیو آنے کا سلسلہ جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور اپنے مداحوں سے صبر و تحمل اور حمایت کی اپیل کی تھی۔ لائیوگفتگو کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ کاکہنا تھا کہ ان کی والدہ ان کی سلامتی کو لے کر بہت پریشان ہیں اور موجودہ صورتحال کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔ اور اسی لئے انہوں نے بیٹے کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے خود انہیں ایئرپورٹ پر الوداع کہا۔رجب بٹ نے اگرچہ اپنی موجودہ رہائش گاہ ظاہر نہیں کی تاہم حالیہ ٹک ٹاک لائیو سیشن کے دوران دبئی اور پاکستان کے وقت کا تقابلی ذکر کرتے ہوئے بیرون ملک موجودگی کا عندیہ دیا۔گفتگو کے دوران رجب بٹ نے یہ واضح کیا کہ وہ وی لاگنگ کو مکمل طور پر ترک نہیں کر رہے بلکہ صورتحال معمول پر آنے تک سرگرمیاں معطل کر رہے تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سوشل میڈیا رجب بٹ کے کے دوران ٹک ٹاکر
پڑھیں:
فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔
متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔
اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔
خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔
2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔