لاہور سمیت صوبے بھر میں آج مسیحی برادری کے دعائیہ پروگرام منعقد ہوں گے، پنجاب پولیس ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
لاہور:
لاہور سمیت پنجاب بھر کے گرجا گھروں میں مسیحی عباداتی دعائیہ پروگرامز جاری ہیں، جس کے پیش نظر پنجاب پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو گرجا گھروں کی سکیورٹی انتظامات میں اضافہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ سپروائزری افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود گرجا گھروں اور اہم مقامات کے سکیورٹی انتظامات کا معائنہ کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حساس گرجا گھروں پر پولیس کی اضافی نفری اور سنائپرز تعینات کئے جائیں تاکہ ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔
پولیس کی ڈولفن سکواڈ، پی آر یو اور ایلیٹ ٹیموں کو گرجا گھروں کے گرد موثر پٹرولنگ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ علاقے میں امن و سکون برقرار رہے۔
آئی جی پنجاب نے تعینات پولیس افسران اور جوانوں کو انتہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ شر پسند عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے۔
مزید برآں، آئی جی پنجاب نے گرجا گھروں، مسیحی آبادیوں اور حساس مقامات کے گرد سرچ اینڈ سویپ آپریشنز جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔
آئی جی پنجاب نے علما کرام، مسیحی کمیونٹی اور امن کمیٹیوں کے ارکان سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیں اور معاشرتی امن کو قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان گرجا گھروں
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔