وزیراعلیٰ سندھ سے پی اے ایس پروبیشنری افسران اور 12ویں ایم سی ایم سی کے افسران کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پی اے ایس پروبیشنری افسران اور 12ویں ایم سی ایم سی کے افسران سے ملاقات کی، وزیراعلیٰ نے انہیں صوبے میں امن و امان، کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف اقدامات اور ترقیاتی کاموں پر آگاہی دی۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ملاقات کے لیے آئے وفد کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی فرحان خواجہ نے کی جس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری ٹو سی ایم رحیم شیخ، ایڈیشنل آئی جی پولیس سی ٹی ڈی آزاد خان اور دیگر نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ نے شرکاء کو امن امان سے متعلق آگاہی دی اور کہا کہ سندھ میں پولیس کی کل نفری ایک لاکھ 20 ہزار ہے، سندھ میں 31 اضلاع اور 8 رینج زونز اور 618 پولیس اسٹیشن ہیں، سندھ حکومت نے پولیس نظام کو بہتر بنانے کے لئے 164 ارب روپے کا بجٹ دیا ہے، پولیس کی تنخواہوں پر 132 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ 32 ارب روپے کے آپریشنل اخراجات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس نے قانون شکنوں اور دہشت گردوں سے بھرپور مقابلہ کیا ہے، تمام صوبوں سے زیادہ پولیس کے سندھ میں 2549 شہداء ہیں اور خیبر پختون خوا میں 2289 شہداء ہیں، دریائے سندھ کے کچے میں ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے، اغوا برائے تاوان کے خلاف پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں، پولیس آپریشن کے علاوہ دریائے سندھ پر پلوں کی تعمیر سے ڈاکوؤں کا مسئلہ کم ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دریائے سندھ پر سیہون تا قاضی احمد پل، دادو تا مورو پل، لاڑکانہ تا خیرپور پل اور سندھ بیراج سے صورتحال بہتر ہو رہی ہے، اس وقت سندھ حکومت کندھ کوٹ تا گھوٹکی پل تعمیر کر رہی ہے، کندھ کوٹ، گھوٹکی پل کی تعمیر سے دونوں اضلاع کے کچے کے علاقوں میں صورتحال بہتر ہوجائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیس نے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کو کافی حد تک کنٹرول کیا ہے، اسٹریٹ کرائم اب بھی ایک چیلنج ہے جسے باقاعدہ طور پر حل کیا جا رہا ہے، سندھ حکومت منشیات کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہی ہیں، سندھ حکومت واحد حکومت ہے جو تھانوں کو براہِ راست بجٹ فراہم کرتی ہے، تھانوں کو 6 ارب روپے براہ راست بجٹ منتقل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ ریڈ زون میں مکمل ہونے والا ہے، صوبے کے دیگر علاقوں میں جلد سیف سٹی پروجیکٹ شروع ہوگا، سیف سٹی منصوبے سے اسٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم پر باقاعدہ قابو پایا جا سکے گا۔
انہوں نے سندھ کے ترقیاتی بجٹ پر کہا کہ صوبے کا کل ترقیاتی بجٹ 1018 ارب روپے ہے، 1018 ارب روپے میں سے 520 یعنی 51 فیصد صوبائی اے ڈی پی ہے، 55 ارب روپے ڈسٹرکٹ اے ڈی پی اور 76.
ان کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی، پیپلز بس سروس، شاہراہ بھٹو کی تعمیر اہم ترین منصوبے ہیں، کراچی میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ اینڈ سیورج، واٹر سپلائی اور سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبے جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے حوالے سے بتایا کہ ایک کروڑ چوبیس لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے، سیلاب کے باعث 50 لاکھ مزید لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ، سیلاب سے 21 لاکھ گھر تباہ ہوئے، پیپلز پارٹی حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے بھر پور کام کر رہی ہے، سندھ حکومت نے شعبۂ صحت میں نمایاں اور مؤثر اقدامات کیے ہیں، عوامی فلاح و ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت حکومت نے ارب روپے ایم سی کہا کہ
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔