سول و پولیس افسران کے تقرر و تبادلے
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
سٹی 42 : وفاقی حکومت کی جانب سے متعدد سول و پولیس افسران کے تقرر و تبادلے کئے گئے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام احکامات کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں تقرری کے منتظر پولیس سروس، گریڈ 19 کے غلام مبشر میکن کی خدمات خیبرپختونخوا حکومت کے سپرد کی گئی ہیں جبکہ وومن میڈیکل افسر ڈاکٹر شگفتہ بانو کا محکمۂ صحت خیبرپختونخوا حکومت سے ڈیپوٹیشن پر 3 سال کیلئے پمز اسپتال اسلام آباد اور میڈیکل افسر ڈاکٹر امیرزش لیاقت کا محکمئہ صحت آزاد کشمیر حکومت سے 3 سال کیلئے ڈیپوٹیشن پر فیڈرل جنرل اسپتال اسلام آباد تبادلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نےڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ کو معطل کر دیا
مزید برآں سیکشن افسر شعیب رضا گوپانگ کا آئی ٹی ڈویژن سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکشن افسر محمد عمیر کا خزانہ ڈویژن سے پارلیمانی امور ڈویژن اور سیکشن افسر بی بی عالیہ خان کاکڑ کا وزارت داخلہ سے سینٹ سیکریٹریٹ اسلام آباد تبادلہ کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں اکاؤنٹس آفیسر پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ نعیم عباس حیدری کو تبدیل کر کے سیکشن افسر دفاع ڈویژن اور سینئر ایڈمن افسر فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز کینٹ/ گیریژنز مشتاق احمد کو تبدیل کر کے سیکشن افسر دفاع ڈویژن تعینات کیا گیا ہے۔
جب انکم ٹیکس مسلط نہیں کر سکتے تو سپر ٹیکس کیسے مسلط کر سکتے ہیں، جج سپریم کورٹ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سیکشن افسر
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔