بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
بابر شہزاد تُرک: وفاقی حکومت کی جانب سے بیوروکریسی میں تقرر و تبادلوں اور ریٹائرمنٹ کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 21 کے افسر محمد طارق چوہان کو ڈائریکٹر جنرل نیشنل پولیس بیورو تعینات کیا گیا ہے.
محمد طارق چوہان اس سے قبل پنجاب حکومت میں خدمات انجام دے رہے تھے، مزید برآں جوائنٹ سیکریٹری داخلہ ڈویژن عدنان ارشد اولکھ کا تبادلہ کر کے انہیں جنرل منیجر (ایڈمن) واپڈا تعینات کیا گیا ہے۔
فضائی آلودگی کا وبال، لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں پھر سرفہرست
دریں اثناء وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت 3 افسران کو کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا ہے، وزارت آئی ٹی کے تحت 3 سال کیلئے کنٹریکٹ پر محمد عامر ملک کو ممبر (انٹرنیشنل کوآرڈینیشن) مقرر کیا گیا ہے، مزید برآں وزارت آئی ٹی کے تحت 2 سال کے کنٹریکٹ پر وقاص عباس کو ڈائریکٹر ٹیکنیکل، اور محمد عظیم خان کو پروگرام ڈائریکٹر، ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ مقرر کیا گیا ہے۔
حافظ آباد: بچوں کی لڑائی میں بڑے کود پڑے، مرد و خواتین گتھم گتھا
دیگر احکامات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں تقرری کے منتظر، سیکریٹریٹ گروپ، گریڈ 22 کے افسر محمد اسلم غوری کو 3 ستمبر 2025ء سے او ایس ڈی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تعینات کیا گیا ہے جبکہ نجکاری ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری شہزاد آصف کو تبدیل کر کے ڈپٹی سیکریٹری وزارتِ دفاع راولپنڈی میں تعینات کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں، سیکریٹریٹ گروپ کے گریڈ 19 کے افسر ڈاکٹر عبدالشکور ابڑو کا 13 جون 2025 کا بعد از ریٹائرمنٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
امریکی ریاست الاسکا میں زلزلہ، شدت 5.
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام احکامات کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: تعینات کیا گیا ہے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔