اسلام آباد:

راولپنڈی اور وفاقی دارالحکومت (جڑواں شہروں ) کے درمیان تیز رفتار اور جدید ٹرین سروس شروع کرنے کے منصوبے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

منصوبے کے تحت دونوں شہروں کے درمیان سفر محض 20 منٹ میں طے ہوگا، جس سے شہریوں کا وقت اور ایندھن دونوں بچیں گے جب کہ ٹریفک دباؤ میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر ریلوے حنیف عباسی کی زیر صدارت اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد مارگلہ اسٹیشن سے راولپنڈی صدر اسٹیشن تک ریل منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

https://cdn.

jwplayer.com/players/xkn72vTw-jBGrqoj9.html

اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سمیت اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ آئندہ ہفتے اس منصوبے کے فریم ورک ایگریمنٹ کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جائیں گے۔

فیصلے کے مطابق ٹریک وزارت ریلوے فراہم کرے گی جب کہ ریل سروس کا انتظام سی ڈی اے کے پاس ہوگا۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ منصوبے کے لیے جدید ٹرینیں امپورٹ کی جائیں گی تاکہ شہریوں کو کم خرچ، تیز رفتار اور معیاری سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ یہ منصوبہ عوامی فلاح کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا اور ہزاروں شہری جدید سہولت سے مستفید ہوں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق یہ منصوبہ وزیراعظم شہباز شریف کے عوامی ریلیف کے ویژن کی عکاسی کرتا ہے، جب کہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔

این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔

دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا