امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایسی کئی یونیورسٹیوں پر جرمانے عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ کیمپس میں یہود دشمنی کو روکنے میں ناکام رہی ہیں، جن میں ہارورڈ یونیورسٹی بھی شامل ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق اہلکار نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی انتظامیہ کئی یونیورسٹیوں سے مذاکرات کر رہی ہے جن میں کورنیل، ڈیوک، نارتھ ویسٹرن اور براؤن شامل ہیں۔

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی اور کہا کہ امریکی انتظامیہ نارتھ ویسٹرن اور براؤن، اور ممکنہ طور پر کورنیل کے ساتھ معاہدوں کے قریب ہے۔

اس اہلکار نے مزید کہا کہ ہارورڈ ملک کی قدیم ترین اور امیر ترین یونیورسٹی ہے، جس کے ساتھ معاہدہ وائٹ ہاؤس کے لیے ایک اہم ہدف ہے۔

کورنیل یونیورسٹی کے ترجمان نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا، دیگر یونیورسٹیوں نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے امریکی یونیورسٹیوں میں تبدیلی لانے کے لیے وفاقی فنڈنگ کا سہارا لینے کی ایک وسیع مہم شروع کر رکھی ہے، ریپبلکن صدر کا کہنا ہے کہ یہ ادارے یہود دشمنی اور انتہائی بائیں بازو کی سوچ کا شکار ہو چکے ہیں۔

جنوری میں دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی یونیورسٹیوں کو ہدف بنایا ہے، خاص طور پر ان فلسطین کے حامی مظاہروں کی وجہ سے، جنہوں نے پچھلے سال کیمپسز کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

کولمبیا یونیورسٹی نے بدھ کے روز کہا تھا کہ وہ وفاقی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم ادا کرے گی، تاکہ وفاقی تحقیقات کا تصفیہ ہو سکے اور اس کی معطل شدہ وفاقی فنڈنگ کو بحال کیا جا سکے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کولمبیا کے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اہلکاروں کا ماننا ہے کہ کولمبیا یونیورسٹی نے معاہدہ کرنے کا ایک معیار قائم کیا ہے۔

ہارورڈ نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے اور وہ وفاقی حکومت پر مقدمہ کر رہی ہے تاکہ اس کی معطل شدہ وفاقی گرانٹس کو بحال کیا جا سکے۔

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اہلکار نے

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم