ڈی جی آئی ایس پی آر کی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کیساتھ خصوصی نشست
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے طلباء و طالبات کیساتھ خصوصی نشست میں بھارت کے آپریشن سندور کو خاک میں ملانے اور معرکہ حق (آپریشن بنیان مرصوص) کی زبردست فتح کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے نے خصوصی طور پر معرکہء حق کے دوران نوجوانوں کے جذبے، سوچ اور حب الوطنی سراہا۔
اس موقع پر طلباء و طالبات نے معاشرتی و قومی امور بالخصوص سیکورٹی کے تناظر میں کھل کر سوالات کیے۔
نشست کے اختتام پر GC یونیورسٹی لاہور کے طلبہ نے خصوصی طور پر ملی نغمے کے ذریعے پاک فوج کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا اور قومی اتحاد کی بہترین ترجمانی کی۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے طلبہ نے ڈی جی ISPR کے ساتھ نشست کو خوش آئند قرار دیا اور مستقبل میں بھی ایسی نشست کے اہتمام کی دلی خواہش کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یونیورسٹی لاہور کے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔