پنجاب کی سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیز کی گورننگ باڈیز میں ایم پی ایز کی نمائندگی لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
لاہور:
پنجاب کی سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیز کی گورننگ باڈیز میں ایم پی ایز کی نمائندگی لازمی قرار دیدی گئی، پنجاب اسمبلی نے یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوٹ لاز ترمیمی بل 2025ء منظور کیا جس پر آج گورنر نے دستخط کردیے اور یہ ایکٹ بن گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹیوں سے متعلق قوانین میں ترمیم کی پنجاب اسمبلی نے منظوری دی، ترمیمی بل کے تحت مختلف ایکٹ اور آرڈیننسز میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، پنجاب کی تمام سرکاری و نجی یونیورسٹیوں کے گورننگ باڈیز میں ایم پی ایز کی نمائندگی لازم قرار دیدی گئی ہے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ ہر یونیورسٹی بورڈ میں تین ایم پی ایز، جن میں کم از کم ایک خاتون رکن شامل ہوگی، ایم پی ایز کی نامزدگی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کریں گے، تمام ترمیم شدہ ایکٹ میں بورڈز میں ایم پی ایز کی شمولیت کو قانونی حیثیت دی گئی ہے، بعض اداروں میں خواتین ایم پی ایز کی تعداد ’’ایک‘‘ سے بڑھا کر ’’تین‘‘ کر دی گئی۔
بل کے مطابق یونیورسٹی آف پنجاب، ایگری کلچر فیصل آباد، یو ای ٹی لاہور ایکٹ میں ترمیم کردی گئی ہے۔ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، یو ای ٹی ٹیکسلا ایکٹ میں ترمیم منظور ہوگئی ہے۔
ایریڈ ایگری کلچر راولپنڈی، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی، ویٹرنری یونیورسٹی لاہور کے قوانین میں ترامیم منظور ہوگئی، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، کنیرڈ کالج، یونیورسٹی آف سدرن پنجاب ایکٹ میں ترمیم منظور ہوگئی۔
نجی اداروں جیسے گلوبل انسٹی ٹیوٹ، قرشی یونیورسٹی، ٹائمز انسٹی ٹیوٹ ایکٹ میں بھی تبدیلیاں کردی گئی ہے۔ ترمیمی بل فوری نافذ العمل ہوگا اور تمام متعلقہ اداروں میں اس کا فوری اطلاق ہوگیا ہے
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان میں ایم پی ایز کی ایکٹ میں گئی ہے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔