مثالی گاؤں منصوبہ میں عوامی ضروریات مدنظر رکھ کر ترجیحات کا تعین کیا جائے گا: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ مثالی گاؤں منصوبہ میں عوامی ضروریات مدنظر رکھ کر ترجیحات کا تعین کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں مثالی گاؤں، ستھرا پنجاب اور ویسٹ ٹو ویلیو پراجیکٹس پر بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ نے مثالی گاؤں پراجیکٹ کی جلد از جلد تکمیل کیلئے ڈیڈ لائن طلب کرلی،پنجاب میں 1200 دیہات مثالی گاؤں بنانے کے پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، ہر مثالی گاؤں میں 24/7 واٹر سپلائی، مکمل سیوریج نیٹ ورک اور ویسٹ مینجمنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ بنیں گے۔
ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں 4.
پنجاب کے مثالی گاؤں میں پختہ گلیاں، سڑکوں کی بحالی، چلڈرن پارک اور شجرکاری بھی ہوگی، مثالی گاؤں میں گھروں پر نمبر لگائے جائیں گے اور سائن بورڈ بھی نصب ہوں گے۔
اجلاس میں مثالی گاؤں کے لیے سولر سسٹم سے چلنے والے واٹر سپلائی ماڈل اور سیوریج سسٹم پر بریفنگ دی گئی، مثالی گاؤں پراجیکٹ کے تحت پائلٹ فیز کے 130 دیہات میں ترقیاتی منصوبے مکمل کر لیے گئے۔
مریم نوازشریف نے کہا کہ مثالی گاؤں پراجیکٹ میں عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ترجیحات کا تعین کیا جائے گا، مثالی گاؤں کے تحت ہر گاؤں کو مکمل طور پر ڈویلپ کیا جائے گا۔
BYD نے پاکستان میں پہلی بار پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی ’’ شارک 6‘‘ متعارف کروا دی
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کیا جائے گا مثالی گاؤں
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔