وزیرآباد:   وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے وزیرآباد کے لئے الیکٹرک بس پراجیکٹ کا آغاز کر دیا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف گکھڑ منڈی بس سٹاپ سے ای بس پر سوار ہوئیں، مریم نواز شریف نے بس سٹاپ سے ای بس پر سفر کیا۔مریم نواز شریف کا خیر مقدم کرنے کے لئے الیکٹرک بس کے روٹ پر عوام کا بہت بڑا ہجوم تھا. الیکٹرک بس کے تمام راستے میں عوام پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے۔عوام وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی تصاویر لے کر راستے میں کھڑے تھے.

مریم نواز شریف نے الیکٹرک بس کا باقاعدہ افتتاح کیا. وزیراعلیٰ پنجاب کو وزیر آباد الیکٹرک بس پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیرآباد میں 15 ماحول دوست الیکٹرک بسیں شہر کے مختلف مضافاتی روٹس پر چلائی جائیں گی. الیکٹرک بس میں مسافروں کے کے لئے وائی فائی اور ہر سیٹ پر موبائل چارجنگ پورٹ بھی میسر ہے۔ماحول دوست الیکٹرک بسیں مکمل طور پر ایئر کنڈیشنز اور آرام دہ ہیں.الیکٹرک بس میں خواتین کے تحفظ اور سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے الگ کمپارٹمنٹ مختص کئے گئے ہیں۔خواتین کو ہراساں کرنے واقعات کے سدباب کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے بھی الیکٹرک بس میں نصب ہیں۔الیکٹرک بسیں وزیرآباد تا علی پور چٹھہ اور وزیرآباد تا شیخوپورموڑ کے روٹس پر چلائی جائیں گی.وزیرآباد میں الیکٹرک بسوں کے لئے تین خصوصی چارجنگ سٹیشن بھی قائم کئے گئے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مریم نواز شریف الیکٹرک بس کے لئے

پڑھیں:

گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف

گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20  گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کسان کارڈ سے کاشتکار سر اٹھا کر جیئے گا: مریم نواز
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف