لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)  ہائیکورٹ نے گندم کی قیمت مقرر نہ کرنے سے متعلق درخواست کا فیصلہ سنا دیا ہے ، عدالت نے پنجاب حکومت کو قیمتیں مقرر کرنے سے متعلق قانون پر عملدرآمد کا حکم جاری کر دیاہے ۔

عدالت نے محکمہ زراعت کی گندم کے فی من اخراجات کی رپورٹ کو بھی فیصلے کا حصہ بنایا  ہے۔  فیصلے میں کہا گیاہے کہ محکمہ زراعت کی رپورٹ کےمطابق گندم کی فی من لاگت 3ہزار 533 روپے ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق قیمتوں کے تعین کیلئے قانون بنا دیا گیا ہے،  سرکاری اداروں نے سیزن کے دوران آئین کے مطابق کردار ادا نہیں کیا،  کم زمین والے اور ٹھیکے پر کاشتکاری کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے،  حکومتی اداروں نے اخراجات کو مدنظر رکھ کر فی من قیمت کا تعین نہیں کیا،  سرکاری اداروں نے تسلیم کیا کہ گندم خوراک کا اہم جزو ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین تک رقوم پہنچانے کےلئے  6 بینک سالانہ ساڑھے 4 ارب روپے سروس چارجز وصول کرتے ہیں،حکام

جسٹس خالداسحاق نے صدر کسان بورڈ ظفر حسین کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا یا ، صدرکسان بورڈ نے گندم کی قیمت مقرر نہ ہونے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: گندم کی

پڑھیں:

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی، 
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن