فرانس کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان، پاکستان علماء کونسل کا خیر مقدم
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ فلسطین اس وقت ایسا سانحہ بنتا چلا جا رہا ہے کہ جس پر الفاظ میں گفتگو ممکن نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل بے گناہ مظلوم فلسطینیوں پر جہاں بارود برسا رہا ہے ،ا ن سے ان کی زمین چھیننے کی کوشش کر رہا ہے وہاں پر مکمل طور پر ناکہ بندی کر کے ان کو پانی اور خوراک بھی پہنچنے نہیں دی جا رہی ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب اور فرانس نے مل کر اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے جو ان شاء اللہ اگلے 2 روز میں منعقد ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے مذہبی اور مسلکی رواداری کے فروغ کے لیے علما کی جانب سے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے، علامہ طاہر اشرفی
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی آج فرانسیسی صدر نے فلسطین کو ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ اور اعلان کیا ہےکہ وہ ستمبر میں ان شاء اللہ اقوام متحدہ میں فلسطین کو ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست تسلیم کر لیں گے۔
’ہم امید رکھتے ہیں کہ اس کانفرنس کے نتیجے میں برطانیہ اور کئی یورپی ممالک بھی اس سمت آگے بڑھیں گے۔‘
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ سعودی عرب کے ولی عہد، قائد الاسلام امیر محمد بن سلمان کی یہ کوششیں کہ فلسطین کو ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست تسلیم کیا جائے، پورا عالم اسلام اس موقف کے ساتھ کھڑا ہے اور فرانسیسی صدر کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اس عندیے اور اعلان کا خیر مقدم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان نے دہشتگردوں کو نہ روکا تو کل خود بھی اسی آگ میں جلنا ہوگا، علامہ طاہر اشرفی
’ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا میں امن چاہنے والے ہر انسان کو آگے آنا چاہیے اور فلسطینی قوم کا حق ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست جس کا دارالخلافہ القدس شریف ہو ملنا چاہیے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اہل فلسطین کے لیے، اہل کشمیر کے لیے، مظلوم انسانیت کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب فلسطین مولانا علامہ طاہر اشرفی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فلسطین مولانا علامہ طاہر اشرفی ایک ا زاد و خود مختار فلسطینی ریاست تسلیم کر کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔