WE News:
2026-06-03@00:25:41 GMT

مصر میں 4 ہزار سال پرانے انسان کے ہاتھ کا نشان دریافت

اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT

مصر میں 4 ہزار سال پرانے انسان کے ہاتھ کا نشان دریافت

مصر میں 4 ہزار سال پرانے انسان کے ہاتھ کا نشان دریافت ہوا ہے۔

کیمرج یونیورسٹی کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر کے ایک قدیم مٹی کے ماڈل پر 4,000 سال پرانا مکمل انسانی ہاتھ کا نشان دریافت کیا ہے، جسے ماہرین نے ’نایاب اور پرجوش دریافت‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھاری مشینری کے بغیر اہرام مصر کیسے تعمیر ہوئے، معمہ حل ہوگیا

برطانیہ کے فٹز ولیم میوزیم کی سینیئر ماہرِ مصریات ڈاکٹر اسٹرڈوک نے بتایا کہ ’ہم نے اس سے قبل تابوتوں یا سجاوٹوں پر گیلی وارنش میں انگلیوں کے نشانات دیکھے ہیں، مگر اس طرح کا مکمل ہاتھ کا نشان دیکھنا ایک نادر واقعہ ہے۔ یہ نشان اس کاریگر کا ہے جس نے مٹی کے سوکھنے سے پہلے اسے چھوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے اس سے پہلے کبھی کسی مصری نوادرات پر اتنا مکمل اور واضح ہاتھ کا نشان نہیں دیکھا۔ اس قسم کی دریافت براہ راست ہمیں اُس لمحے سے جوڑ دیتی ہے جب یہ چیز تخلیق ہوئی تھی، اور اُس شخص سے جس نے اسے بنایا تھا۔ یہی ہماری نمائش کا اصل محور ہے۔ ‘

یہ بھی پڑھیں: مصر، اہرام گیزا کے نیچے پراسرار وسیع و عریض شہر دریافت

تجزیے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ غالباً کاریگر نے لکڑی کی سلاخوں سے ایک ڈھانچہ تیار کیا اور پھر اس پر مٹی چڑھائی۔ یہی مٹی بعد میں سوکھ کر محفوظ ہو گئی، جس کے نیچے یہ ہاتھ کا نشان موجود ہے۔

یہ 4 ہزار سال پرانے ہاتھ کا نشان رواں سال 3 اکتوبر سے شروع ہونے والی ’میڈ اِن اینشنٹ ایجپٹ‘ نمائش میں عوام کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کا اہتمام کیمبرج یونیورسٹی فٹز ولیم میوزیم میں کررہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آثار قدیمہ انسانی ہاتھ فٹز ولیم میوزیم کیمرج یونیورسٹی مصر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسانی ہاتھ کیمرج یونیورسٹی ہاتھ کا نشان

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود