کراچی: چائنا پورٹ پر لڑکی اور لڑکے کا قتل، مقتولہ کا بھائی گوجرانوالہ سے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
کراچی میں کلفٹن چائنا پورٹ کے قریب فائرنگ سے ہلاک لڑکی ثناء کے بھائی کو گوجرانوالہ پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ثناء کے اغوا کا مقدمہ بھائی نے درج کروایا تھا جس میں ساجد کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ثناء اور ساجد کے قتل میں کسی قریبی عزیز کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
ثناء کے بھائی وقاص نے گوجرانوالہ کے تھانہ تتلے علی میں 17 جولائی کو ثناء کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا جس میں ساجد سمیت دیگر چار افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔
نوشہرو فیروز: لڑکی کی لاش ملنے کا معاملہ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا بیان سامنے آگیاایم ایس ڈاکٹر رفیق کا کہنا ہے کہ رشتے داروں نے بتایا کہ لڑکی نے زہریلی گولیاں کھائی ہیں، لڑکی کی طبیعت بہتر ہونے پر اسے گمبٹ اسپتال ریفر کیا، گزشتہ رات کو لڑکی کو دوبارہ اسپتال لایاگیا تو وہ فوت ہوچکی تھی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گوجرانوالہ پولیس سے مسلسل رابطے میں ہے اور مقدمے کے مدعی وقاص کو گوجرانوالہ پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ اس سے اغوا کے واقعے سے متعلق مزید تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔
اسد رضا نے مزید بتایا کہ تحقیقات میں اگر ضرورت محسوس ہوئی تو کراچی پولیس گوجرانوالہ جائے گی۔ قتل کیے گئے ساجد اور ثناء کے والدین میں سے کسی نے رابطہ نہیں کیا تو قتل کے واقعے کا سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ثناء کے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک