بلوچستان میں شہریوں کو مارنے والوں کا حل آپریشن کے سوا کچھ نہیں: رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
مسلم لیگ ( ن ) کے رہنما اور وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ جو لوگ بلوچستان میں شہریوں کو مارتے ہیں ان کا حل آپریشن کے سوا کچھ نہیں ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہیں اور انکے بیٹے اپنے والد سے ملنے کیلئے پاکستان آئیں گے تو یہ ان کا حق ہے۔
چینی کی قلت سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ چینی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے دیہاڑی لگائی گئی ہے اور اس میں مڈل مین کا مرکزی کردار ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ چینی کے معاملے میں کوئی انفرادی طور پر ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی کی 200 روپے قیمت مڈل مین کی وجہ سے ہے اور انہوں نے مصنوعی قلت پیدا کی ہے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر کسی کو رعایت نہیں دی۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان مالک بلوچ سینئر سیاستدان ہیں اور ہمارے ان سے اچھے تعلقات ہیں، وہ پہلے چاہتے تھے جو لوگ پہاڑوں پر گئے ہیں ان کو معافی دی جائے لیکن انہیں معافی دے کر دیکھ لی ہے اور کچھ نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگوں کو بسوں سے اُتار کر گولیاں مارتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں ترقی ہو اور جو لوگ بلوچستان میں شہریوں کو مارتے ہیں ان کا حل آپریشن کے سوا کچھ نہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رانا ثناء اللہ کا کہنا کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کچھ نہیں
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔