ایف آئی اے کی بلوچستان میں حوالہ ہنڈی کا کام کرنے والوں کیخلاف کارروائیاں، 5 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان زون نے کارروائیوں کے دوران حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتارکرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کی ہدایت پر حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث نیٹ ورکس کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے۔
اس تسلسل میں ایف آئی اے بلوچستان زون نے حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتارکرلیا، جن کی شناخت اکمل خان، سیف اللہ، بشیر احمد، عبدالقیوم اور عبداللہ کے ناموں سے ہوئی۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کو چھاپہ مار کاروائیوں میں کوئٹہ اور چمن کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا، چھاپہ مار کاروائیوں میں ملزمان سے 6 لاکھ 84 ہزار پاکستانی روپے جبکہ غیر ملکی کرنسی کی مد میں 230.
ملزمان کے قبضے سے چیک بکس، حوالہ ہنڈی سے متعلق رسیدیں اور بینک ڈیپازٹ سلپس بھی برآمد ہوئیں، ملزمان بغیر لائسنس کرنسی کی ایکسچینج میں ملوث تھے، برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے گرفتار ملزمان حکام کو تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایکسچینج میں ملوث حوالہ ہنڈی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔