اسلام آباد سے چینی غائب، عوام بازاروں کے چکر لگا کر پریشان
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 جولائی2025ء)اسلام آباد کی مارکیٹوں میں شہریوں کو چینی نہیں مل رہی جس کے باعث شہری چینی کی تلاش میں بازاروں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔اسلام آباد میں دکانداروں کا کہنا ہے کہ چینی کا سرکاری ریٹ 172 روپے فی کلو ہے، منڈی سے چینی 178 سے 188 روپے مل رہی ہے، پرائس مجسٹریٹ کی گرفتاریوں سے تنگ آ چکے اب چینی نہیں رکھیں گے۔
(جاری ہے)
وفاقی دارالحکومت کی مارکیٹوں میں چینی نہ ہونے پر لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے اور عوام کا کہنا ہے کہ جو ملک چینی کی پیداوار میں خودمختار ہو وہیں چینی نا ملے تو پھر دیگر چیزوں کا کیا کہیں چینی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ شوگر ملز نے حکومت سے 165 روپے ایکس مل پرائس کا معاہدہ کرکے چینی کی فراہمی روک دی ہے، چینی اسٹاک ختم ہونے لگا ہے تاہم شوگر ملز نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ اس کے علاوہ مارکیٹ سے چینی غائب ہونے اور چینی ایکسپورٹرز و ڈیلرز کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کے بعد حکومت نے چینی کا نیا بحران ٹالنے کے لیے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا اجلاس آج بلوا لیا ہے۔ وفاقی وزیر رانا تنویر کی زیر صدارت اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا کہ عوام کو سستی چینی فراہم کرنے کے معاہدے پر عمل درآمد کیسے کرایا جائے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسلام ا باد
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟