WE News:
2026-07-24@07:36:39 GMT

190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں شہزاد اکبر کا مرکزی کردار ثابت

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں شہزاد اکبر کا مرکزی کردار ثابت

190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سابق چیئرمین ایسٹ ریکوری یونٹ اور سابق مشیرِ احتساب مرزا شہزاد اکبر کا مرکزی کردار سامنے آ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق شہزاد اکبر نے ایک غیر قانونی سکیم کا ماسٹر مائنڈ بن کر پاکستان کو مالی نقصان پہنچایا۔

ذرائع کے مطابق، 6 نومبر 2019 کو شہزاد اکبر نے ایک رازداری کے معاہدے (Deed of Confidentiality) پر دستخط کیے، جس کے بعد 190 ملین پاؤنڈ کی رقم بحریہ ٹاؤن کراچی کے ذمہ داری اکاؤنٹ سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار کے نام ’نامزد اکاؤنٹ‘ میں منتقل کی گئی۔

معاہدے میں شریک ملزم ضیا المصطفیٰ نسیم نے بھی دستخط کیے اور رقم کو اسٹیٹ آف پاکستان کا اکاؤنٹ ظاہر کیا گیا، جب کہ اصل میں یہ بحریہ ٹاؤن کا مخصوص اکاؤنٹ تھا، جسے اسٹیٹ بینک کا اکاؤنٹ ظاہر کر کے رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام کیا گیا۔

ریکارڈ کے مطابق شہزاد اکبر نے فروری اور مئی 2019 میں برطانیہ کے دورے کیے اور برطانوی ہوم سیکرٹری اور نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے حکام سے ملاقاتیں کر کے فنڈز واپسی کا خفیہ روڈمیپ تیار کیا۔

ان دوروں میں شہزاد اکبر نے ایف بی آر، ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک کو شامل نہیں کیا، جسے بدنیتی قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر کی اس بدنیتی کی وجہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان کو شدید مالی نقصان پہنچا اور 190 ملین پاؤنڈز (تقریباً 50 ارب روپے) بحریہ ٹاؤن کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال ہوئے۔

شہزاد اکبر نے 3 دسمبر 2019 کو کابینہ اجلاس میں معاہدہ پیش کیا مگر چھپایا کہ وہ پہلے ہی 6 نومبر کو خفیہ معاہدے پر دستخط کر چکے تھے۔ اس کے علاوہ، برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے 14 دسمبر 2018 سے پہلے 120 ملین پاؤنڈ ضبط کیے تھے، جو علی ریاض ملک اور مبشرہ ملک کے خلاف کارروائی کا حصہ تھے۔

این سی اے نے 1 Hyde Park Place اور دیگر جائیدادوں کے سلسلے میں کرائم ایکٹ 2002 کے تحت تحقیقات کیں۔ اثاثہ ریکوری یونٹ نے 13 اور 21 مارچ 2019 کو بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ سے معاہدے کیے، جب کہ سپریم کورٹ نے ان ہی دنوں بحریہ ٹاؤن پر جرمانہ عائد کیا اور فوجداری مقدمات مشروط طور پر معطل کیے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ شہزاد اکبر نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فنڈز کو چھپانے، بدنیتی اور کرپشن میں مرکزی کردار ادا کیا۔

اس کیس میں نیب اور دیگر ادارے تحقیقات کر رہے ہیں اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ انہی الزامات کی بنیاد پر شہزاد اکبر کو اشتہاری مجرم قرار دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شہزاد اکبر نے سپریم کورٹ ملین پاؤنڈ بحریہ ٹاؤن کے مطابق

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر  کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار